تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 513

مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ یقین کر لو۔اور اگر تم (سود سے)توبہ کر لو تو (کوئی اتنا نقصان نہیں کیونکہ) تمہارا رأس المال تمہارے لئے وصول کرنا اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ۰۰۲۸۰ جائز ہے۔(اس صورت میں )نہ تم (کسی پر )ظلم کرو گے اورنہ تم پر ظلم ہوگا۔حلّ لُغات۔فَاْذَنُوْا اَذِنَ بِالشَّیْءِ کے معنے ہیں عَلِمَہٗ اسے جان لیا۔پس فَاْذَنُوْا کے معنے ہیں تم جان لو۔یقین کر لو۔(اقرب) رَئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ رَأْسُ الْمَال اُس اصل مال کو کہتے ہیں۔جس پر کوئی نفع نہ ہو۔چنانچہ کہتے ہیں۔اَقْرَضَنِیْ عَشْرَۃً بِرَءُ وْسِھَا اَیْ قَرْضًا لَارِبْـحَ فِیْہِ فَیَرُدَّ عَلَیْہِ رَاْسَ الْمَالِ۔یعنی اس نے مجھے دس دینار بغیر اس کے کہ ان پر کچھ اور نفع مقرر کرتا قرض دیئے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔اے مسلمانو!اگر تم نے سود کو نہ چھوڑا تو تم خدا اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جائو۔یہ ایک بہت بڑی تنبیہہ ہے جو مسلمانوں کوکی گئی مگر افسوس ہے کہ انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور پھر اس کا خطرناک نتیجہ بھی انہوں نے دیکھا۔ان کی زمینیں اور جائیداد یں چھن کر دوسروں کے پاس چلی گئیں۔اور وہ مفلس اور قلاش ہو گئے بلکہ مسلمانوں کی گذشتہ دَور میں جس قدر سلطنتیں تباہ ہوئیں ان کی تباہی کی بڑی وجہ بھی یہی ہوئی۔وہ اکثر سود لے کر یا سود دے کر ہی تباہ ہوئی ہیں۔اگر انہوں نے سودی روپیہ لیا تو روپیہ دینے والی سلطنتوں نے ان کے ملک میں آہستہ آہستہ اپنا تسلّط جمانا شروع کیا۔کبھی ریلوں کا ٹھیکہ لیا۔کبھی کانوں کو کفالت میں رکھا۔کبھی کسی اور چیز پر قبضہ کر لیا اور آہستہ آہستہ تمام ملک پر چھا گئے۔پھر اگر انہوں نے سود پر قرض دیا۔تو جب کبھی سلطنتوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تو وہ ارکانِ سلطنت جنہوں نے اپنا تمام سرمایہ غیروں کو سود پر دیا ہوا تھا اپنے قرض داروں کے طرف دار ہو گئے تاکہ ان کا روپیہ نہ مارا جائے۔چنانچہ لکھنؤ اور اودھؔ والوں نے ایسا ہی کیا۔انہوں نے کسی کو سود دیا نہیں بلکہ خود لینا چاہا اور بہت ساروپیہ انگریزی بینکوں میں جمع کرا دیا۔جب لکھنؤ پر حملہ ہوا تو بڑے بڑے رئیسوں کو انگریزوں نے کہلا بھیجا کہ اگر تم ذرا بھی مخالفت کروگے تو تمہارا تمام مال جو ہمارےبینکوں میںہے ضبط کر لیا جائے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور ایک شخص بھی نواب کی تائید میں نہ