تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 514

اُٹھا۔ایک ڈاکو کے قتل پر بھی بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں لیکن لکھنؤ کے نواب کے قتل پر ایک شخص بھی انگریزوں کے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوا۔غرض سیاسی طور پر سود کا لینا بھی مسلمانوں کے حق میں سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم کی صریح خلاف ورزی کی۔یوں تو دوسری حکومتیں بھی سود لیتی اور دیتی رہی ہیں مگر ان کو اس سے وہ نقصان نہیں پہنچا جو مسلمانوں کو ہوا۔اس کی ایک روحانی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو اللہ تعالیٰ نے کلی طور پر اس طرح چھوڑ رکھا ہے جس طرح ایک باپ اپنے بچہ کو عاق کر دیتا ہے اور اس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔لیکن مسلمان اس بچہ کی طرح ہیں جس سے اس کے ماں باپ کو پیار ہوتا ہے۔پس مسلمان جب بھی احکامِ الٰہیہ کی خلاف ورزی کریں گے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح تھپڑ پڑے گا جس طرح ایک باپ اپنے بچہ کو تھپڑ مارتا ہے۔کیونکہ وہ اس کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔اگر کوئی مسلمان اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلے تو اللہ تعالیٰ اس سے اپنا تعلق منقطع کر لے گا اور دنیا میں اس کی اِصلاح کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھائے گا۔مگر مسلمانوں کی تو یہ حالت ہے کہ ایک طرف تو وہ بڑے زور سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کے احکام کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔اور یہ صورت ایسی ہے جس میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کی گرفت کے لئے بڑھتا ہے اور انہیں وقتاً فوقتاً فہمائش کرتا رہتا ہے۔ورنہ محض کفر پر اس دنیا میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں عذاب دیا جاتا ہے اور ایسا کافر جو کسی کو دُکھ نہیں دیتا اور اپنے خیال کی بنا پر اپنے مذہب پر عمل کرتا رہتا ہے۔اس سے یہاں کوئی پرسش نہیں کی جاتی۔مگر وہ لوگ جو اسلام کو قبول کرتے ہوئے پھر بھی اسلام کے احکام پر عمل نہیں کرتے ان کو یہاں بھی سزا دی جاتی ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔اور ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق کلّی طور پر منقطع نہ ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسری سلطنتوں پر بھی مختلف اوقات میں زوال آئے۔مگر وہ زوال صرف سیاسی رنگ کے تھے۔لیکن اسلامی سلطنتیں محض اس لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے سود پر قرض لیا یا دیا اور اس طرح اسلامی احکام کی خلاف ورزی کی۔فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص سُود دے یا لے۔اس سے قومی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہیے۔کیونکہ وہ باغی ہے اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے ایک واضح حکم کی نافرمانی کرنے والا ہے۔وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حکم صرف ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے سود پر روپیہ دیا ہوا تھا مگر پھر انہوں نے توبہ کر لی۔اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ اگر آئندہ کے لئے تم اس