تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 512
ہوگی۔گویا پرانے نظام کو بدل کر ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا اور قرآن اور اسلام کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے وقوع میں آئے گا۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک اور مناسب حال عمل کرتے ہیں۔اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ان کے لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۷۸ لئے ان ربّ کے پاس یقیناً ان کا اجر (محفوظ )ہے۔اور انہیں نہ (تو) کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔تفسیر۔چونکہ پیچھے صدقات پر بہت زور دیا گیا ہے اس لئے ممکن تھا کہ کوئی شخص یہ خیال کر لیتا کہ صرف صدقہ دے دینا ہی کافی ہے اسی سے نجات ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ اس شبہ کے ازالہ کے لئے فرماتا ہے کہ ترکِ ربوٰا اور صدقات کا دینا ہی کافی نہیں بلکہ ہر قسم کے اعمال صالحہ کی بجاآوری اور نمازوں کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔صرف ایک پہلو پر زور دے کر تم نجات حاصل نہیں کر سکتے۔اس میں ان لوگوں کی غلطی کا ازالہ بھی کیا گیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لئے صرف منہ سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دینا کافی ہے اعمال صالحہ کی کوئی ضرورت نہیں۔فرمایا۔تمہارا یہ خیال غلط ہے۔جب تک ایمان کے ساتھ عمل صالح اور اقامتِ صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ نہ ہو اور تعلق باللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے لحاظ سے تمہارے ایمان کی تکمیل نہ ہو اس وقت تک تمہیں نجات میسر نہیں آسکتی۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰۤوا اے ایمان دارو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور اگر تم مومن ہو تو سود (کے حساب) میں سے جو کچھ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۲۷۸فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ باقی ہو اسے چھوڑ دو۔اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے (برپا ہونے والی) جنگ کا