تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 509
نہیں رہتا۔پس مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے کام اس طرح ہوتے ہیں جس طرح ایسا شخص جسے جنون کی بیماری نے ستایا ہوا ہو کھڑا ہوتا ہے۔یعنی جس طرح اس میں وقار نہیں ہوتا اور سرعت اور بے پرواہی ہوتی ہے یہی حال سود خواروں کا ہوتا ہے۔ان کے کاموں میں بھی ناواجب سرعت پیدا ہو جاتی ہے اور پرواہ اور احتیاط کم ہو جاتی ہے۔چنانچہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ سودی کا روبار کرنے والے لوگ ایسے فتنے پیدا کرتے رہتے ہیں جن کے نتیجہ میں لڑائی ہو۔اور ان کا روپیہ صرف ہو گویا جس طرح ایک مجنون نتیجہ دیکھنے کا عادی نہیں ہوتا اسی طرح سود پر روپیہ دینے والا سود پر روپیہ دیتا چلا جاتا ہے اور یہ سوچتا نہیں کہ اس کا کیا انجام ہو گا؟ اسے صرف یہ دھت ہوتی ہے کہ کوئی فتنہ پیدا ہو اور لوگ ہم سے سودی قرضہ لیں اور اس طرح ہمارا مال بڑھے۔پھر اس سے بڑھ کر بڑی بڑی حکومتوں کو بھی اپنی طاقت سے بڑھ کر سود پر قرض لینے کی جرأت ہو جاتی ہے۔اور وہ عواقب سے لاپرواہ ہو کر خون ریز جنگیں شروع کر دیتی ہیں۔درحقیقت ایسی لمبی لڑائیاں جو قوموں کی قوموں کو پیس ڈالتی ہیں۔لاکھوں عورتوں کو بیوہ اور کروڑوں بچوں کو یتیم بنا دیتی ہیں۔جو لاکھوں بیٹوں کو برباد اور لاکھوں باپوں کو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیتی ہیں وہ تبھی جاری رہ سکتی ہیں جبکہ سود کے ذریعہ مالی حالت کو قائم رکھا جائے۔پہلی جنگ عظیم میں سات کروڑ روپیہ یومیہ صرف گورنمنٹ انگریزی کا خرچ ہوتا تھا اور اسی قدر بلکہ اس سے بھی زیادہ جرمنی کا خرچ ہوتا تھا۔اگر سود کا دروازہ کھلا نہ ہوتا تو جرمنی اس خرچ کو ایک سال تک بھی برداشت نہ کر سکتا اور اس کا سارا اندوختہ تھوڑی مدت میں ختم ہو جاتا۔پھر اس نے کیا کیا؟ یہی کہ سود کے ذریعہ کئی سال تک خرچ چلاتا رہا۔پھر لڑائی کی بنیاد بھی سود ہی کی وجہ سے پڑی۔یہ ٹھیک ہے کہ اتحادی حکومتوں نے دفاعی طور پر جنگ کی۔لیکن جرمنی کو کس چیز نے لڑائی چھیڑنے کی جرأت دلائی۔اسی سود نے۔وہ سمجھتا تھا کہ اگر جنگ شروع ہو گئی تو سود کے ذریعہ میں جس قدر روپیہ چاہوں گا حاصل کرلوں گا اور جنگ جاری رکھ سکوں گا۔اگر سود کا دروازہ بند ہوتا تو اس قدر عظیم الشان جنگ جاری رکھنے کا اسے خیال ہی نہ آتا اور اگر براہ راست جرمنوں پر ٹیکس پڑتے تو وہ ایک سال بھی لڑائی جاری نہ رکھ سکتے اور فوراً ملک میں شور پڑ جاتا کہ ہم اس قدر بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن سود کے ذریعہ روپیہ لے کر لوگوں کو اس بوجھ سے غافل رکھا جاتا ہے جو جنگ کے لمبا کرنے کی وجہ سے ان پر پڑتا ہے۔پس سود لڑائی کا ایک بھاری سبب ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احکام جنگ کے بعد سود کا بھی ذکر فرما دیا کیونکہ سود کا جنگ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا۔ان کا ربٰو کھانا اس وجہ سے ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیںیہ بھی ایک تجارت ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے اور فرماتا ہے۔وَ اَحَلَّ