تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 510
الرِّبٰوا۔تمہارے نزدیک تو یہ دونوں برابر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان دونوں کو یکساں قرار نہیں دیتا بلکہ وہ ان میں سے بیع کو جائز قرار دیتا ہے اور ربوٰ کو ناجائز۔پس اس کا ایک چیز کو جائز اور دوسری کو ناجائزقرار دینا صاف بتاتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک جیسی نہیں اور خدا تعالیٰ نے جو اس سے منع کیا ہے تو آخر کوئی حکمت ہوگی اور وہ حکمت وہی ہے جو پہلی آیت میں بیان ہو چکی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام جس تمدن کو قائم کرنا چاہتا ہے اس کی بنیاد دوسروں سے نیک سلوک کرنے اور غرباء کی ترقی پر رکھی گئی ہے۔لیکن سودی کا روبار کرنے والے حسن سلوک کو جانتے ہی نہیں صرف روپیہ کی زیادتی ان کے مد نظر ہوتی ہے خواہ دوسرے کا گلا گھونٹ کر کی جائے۔پس چونکہ اس ذریعہ سے دوسروں سے نیک سلوک کرنے اور غرباء کو ابھارنے کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور جنگوں کا دروازہ کھل جاتا ہے اس لئے اسلام نے اس کی کلّی طور پر ممانعت فرما دی۔لیکن مکان یا دوکان کا کرایہ ایک علیحدہ چیز ہے۔کرایہ اس لئے لیا جاتا ہے کہ مکان یاد وکان کے گرنے کا امکان ہو سکتا ہے اور اس کی مرمت کے لئے مالک مکان کے پاس کچھ نہ کچھ روپیہ ہونا ضروری ہے۔اسی طرح تجارت بھی ایک علیحدہ چیز ہے۔کیونکہ تجارت میں ایک شخص اپنے مال کا دوسرے کے مال سے تبادلہ کرتا ہے۔پس بیع اور ربوٰ کو ایک چیز قرار دینا نادانی ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ جس شخص کے پاس اس کے ربّ کی طرف سے کوئی نصیحت کی بات پہنچ جائے اور وہ اسے سن کر اس کی خلاف ورزی سے باز آجائے تو پھر ہمارا قانون یہ ہے کہ ہم اس کی سابقہ کوتاہیوں پر اس سے کوئی باز پرس نہیں کرتے۔پس تم بھی ایسے لوگوں کامعاملہ حوالہ بخدا کیا کرو اور ان کی توبہ کو قبول کر لیا کرو۔ہاں اگر کوئی شخص توبہ کے بعد پھر وہی کام کرنے لگ جائے تو ایسا شخص ضرور سزا کا مستحق ہو گا۔یہاں اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ سود اور خریدوفروخت میں کوئی فرق نہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اگر ان میں کوئی فرق نہ ہوتا اور دونوں ایک جیسے ہوتے تو خدا تعالیٰ ان میں سے ایک کو حلال اور دوسرے کو حرام کیوں قرار دیتا اور پھر باز آنےوالوں کو معاف کیوں کرتا اور جو معافی کے بعد دوبارہ سود لینا شروع کر دیں انہیں سزا کیوں دیتا ؟ یہ بات بتاتی ہے کہ بیع اور ربوٰا ایک جیسے نہیں۔ربوٰا کا لازمی نتیجہ آگ ہے خواہ وہ لڑائی کی صورت میں بھڑک اُٹھے یافتنہ وفساد کے رنگ میں ظاہر ہو۔مگر بیع کا یہ نتیجہ نہیں ہوتا اور پھر ربوٰ کا یہ نقصان عارضی نہیں بلکہ جب تک یہ لعنت دنیا پر مستولی رہے گی فتنہ و فساد کی آگ بھی بھڑکتی رہے