تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 508

لئے کوئی دوسری صورت کھولنا؟ یقیناً اگر اس شخص کو اجازت ملے تو دوسری دونوں قسم کے لوگ اس کی مثال پر اپنے لئے بھی سود لینے کا فتویٰ دیں گے۔اور یہ لعنت دنیا میں قائم رہے گی۔پس اس کے لئے بھی کوئی اور ہی راستہ کھولنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔اسلام نے ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر ایک مفصل تعلیم دی ہے۔اس تعلیم کا مغز یہ ہے کہ (۱) ہر شخص کو کھانا کپڑا مکان اور علم میسّر ہونا چاہیے۔(۲) کسی ایک شخص کے پاس بے انتہا دولت جمع نہیں ہونی چاہیے۔(۳) روپیہ پیسہ کسی کے پاس جمع نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے چکر کھاتے رہنا چاہیے تاکہ سب لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔(۴) جن کو جائز ضرورتیں پیش آئیں ان کے پورا کرنے کا سامان کرنا حکومت اور سوسائٹی کے ذمہ ہے۔نمبر۲ کی شق کے ماتحت اس نے تجارتی سود کو منع کیا ہے۔کیونکہ بے انتہا دولت ہمیشہ سود پر روپیہ لینے سے جمع ہوتی ہے اور اس طرح انسان دوسروں کے روپیہ سے ایک جؤا کھیلتا ہے۔اگر کامیاب ہوا تو کروڑپتی ہو گیا اور اگر ہارا تو اس کا روپیہ تو تھا نہیں۔قرض خواہ کیا کر لیں گے زیادہ سے زیادہ قید کرا دیں گے۔اس کی دوسری شق کے ماتحت اس نے تقسیم جائیداد کا حکم دیا ہے۔یعنی ہر شخص کی جائیداد کو اس کے وارثوں میں تقسیم کرنا ضروری قرار دیا ہے۔یہ جائز نہیں رکھا کہ کوئی شخص صرف ایک لڑکے کو جائیداد دے دے تاکہ جو کچھ بھی اس شخص نے کمایا ہے وہ ایک ہی ہاتھ میں جمع رہ کر ہمیشہ کے لئے ایک خاندان کے بعض افراد کو فوقیت نہ دے دے۔نمبر اوّل کے ماتحت اس نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ سب کے لئے کھانا کپڑا مکان وغیرہ مہیا کرے۔اور اس کے لئے زکوٰۃ اور خراج وغیرہ کا سلسلہ جاری کیا ہے اور افرا د پر صدقہ واجب کیا ہے۔نمبر۳ کے لئے اس نے ورثہ اور زکوٰۃ کا سلسلہ جاری کیا ہے اور سود سے منع کیا ہے۔اور نمبر۴ کے لئے بھی زکوٰۃ اور صدقات کا سلسلہ اور رہن باقبضہ یا بیع سلم کا سلسلہ جاری کیا ہے۔غرض ان اصول پر اس نے ایک مکمل نظام تیار کیا ہے۔اگر یہ مکمل نظام دنیا میں جاری کیا جائے اور پھر کوئی نقص رہ جائے تب تو اسلام کی تعلیم پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ورنہ نظام تو مغربی جاری ہو اور اسلام پر اعتراض ہو کہ اس نے سود سے منع کر کے اس کا علاج کیا بتایا ہے ایک لغو اور بیہودہ فعل ہے۔يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ۔جیسا کہ حلِّ لغات میں بتایا جا چکا ہے اس جگہ مسّ سے مراد جنون ہے اور جنون کے نتیجہ میں انسانی حرکات میں بے راہ روی پیدا ہو جاتی ہے اور سوچنے اور غور و فکر سے کام لینے کا مادہ اس میں