تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 507
۳) ایک صاحبِ جائیداد مصیبت زدہ جس کے پاس نقد روپیہ موجود نہیں کسی ناگہانی آفت سے بچنے کے لئے قرض لیتا ہے۔(۱) ظاہر ہے کہ غریب انسان جو آٹھ روپے کما نہیں سکتا وہ آٹھ روپے سود پر لے کر نو کہاں سے ادا کرے گا؟ چنانچہ کسانوں کی موجودہ حالت اس حماقت کو کلّی طور پر ظاہر کر رہی ہے۔ایک مرے ہوئے انسان کو مارنا اتنہا درجہ کا ظلم ہے۔جو پہلے ہی مررہا ہے اس پر اور بوجھ لاد دینے کا کیا مطلب ہوا۔آخر اس ظلم کے نتیجہ میں ایک اور ظلم پیدا ہوتا ہے۔یعنی جب مقروض قرضہ نہیں دے سکتے تو وہ قرضہ سے کلّی طور پر انکار کر دیتے ہیں۔(۲) تاجر یا صنّاع یا زمیندار اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے قرض لیتا ہے۔زمیندار کی صورت میں اگر یہ قرض جائیداد کی بہتری کے لئے لیا گیا ہو تو اسلام نے رہن کی صورت کو جائز رکھا ہے۔اس تدبیر سے اس نے ایک طرف تو لوگوں کو اتنا قرض اٹھانے سے جسے ادا کرنا ان کی طاقت سے باہر ہو روک دیا ہے۔اور دوسری طرف جائز ضرورت کے پورا کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ایک تاجر اور صنّاع کے لئے دوسرے لوگوں کو شریک کار کرنے کا راستہ کھلا ہے۔اگر اسے سود سے کاروبار بڑھانے کی اجازت دی جائے اور وہ اپنی تجارتی کوشش میں ناکام رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسرے لوگوں کا روپیہ ضائع جائے گا اور اگر کامیاب ہو تو بے انتہا دولت ایک ہاتھ میں جمع ہو جائے گی جو انصاف اور ضروریاتِ تمدن دونوں کے خلاف ہے۔(۳) تیسری صورت ایسی ہے کہ جسے ایک حد تک جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس پر نہ وہ اعتراض پڑتا ہے جو پہلی صورت پر پڑتا تھا کہ یہ دے گا کہاں سے۔اور نہ وہ اعتراض پڑتا ہے جو دوسری صورت پر پڑتا تھا۔یعنی یہ کیا حق رکھتا ہے کہ سب دنیا کی دولت اپنی ذہانت سے سمیٹ کر اپنے گھر میں جمع کر لے؟ کیونکہ اس صورت میں ایک ایسا شخص قرض لیتا ہے جس کے پاس جائیداد ہے یا قابلیت کمانے کی موجود ہے۔لیکن ایک ناگہانی آفت کی وجہ سے اسے ایک وقت میں اتنا روپیہ دینا پڑ گیا ہے جو اس کے پاس جمع نہیں۔بظاہر عقل کہتی ہے کہ اسے سو د پر قرض لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔اس کو سود پر روپیہ قرض دینا ظلم بھی نہیں کیونکہ یہ صاحبِ حیثیت ہے اور یہ لوگوں کے روپیہ سے کھیلتا بھی نہیں کیونکہ اس کے پاس جائیداد ہے یا وہ نوکری پیشہ ہے جو اس کے قرض کے ادا ہونے کے لئے کافی ضمانت ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کو سود کی اجازت دے کر سود کا دروازہ کھول دینا زیادہ اچھا ہے یا ایسے شخص کے