تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 497

سے بہت زیادہ عرصہ صحبت پانے والوں نے اتنی حدیثیں بیان نہیں کیں۔ان کے بھائی نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ یارسول اللہ ابوہریرہ سارا دن بیکار پڑا رہتا ہے۔آپ اسے ہدایت فرمائیں کہ وہ کوئی کا م بھی کیا کرے۔آپ نے فرمایا۔کبھی خدا تعالیٰ دوسروں کی وجہ سے بھی رزق دے دیا کرتا ہے۔تمہیں کیا معلوم کہ اسی کی وجہ سے خدا تعالیٰ تم کو رزق دے رہا ہو؟پس ایسے واقفین زندگی جنہوں نے اپنے تمام اوقات خدا اور اس کے رسول کے لئے وقف کر رکھے ہوں اور وہ کوئی تجارت وغیرہ نہ کر سکتے ہوں وہ بھی اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ میں ہی شامل ہیں۔پھر ایک رُکنا وہ بھی ہے جس کا فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَ لِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَ (التوبۃ: ۱۲۲)میں ذکر آتا ہے۔یعنی کیوں نہ ہوا کہ ہر قوم اور جماعت کے کچھ لوگ مرکز میں دین سیکھنے کے لئے آتے اور اپنی قوم کو واپس لوٹ کر بے دینی سے ہوشیار کرتے تاکہ وہ گمراہی سے ڈریں۔جیسا کہ اس زمانہ میں مختلف ممالک سے لوگ دین سیکھنے کے لئے احمدیت کے مرکز میں آتے اور کئی کئی سال تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر واپس جا کر اپنے ملک اور قوم کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا موجب بنتے ہیں۔پس ایک رُکنا دین حاصل کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔وہ اپنے نفس کے آرام کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اس کے دین کی خدمت کرنے کی وجہ سے روکے جاتے ہیں۔وہ زمین میں پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے یعنی ہر وقت دین کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔اور انہیں دینی امور میں اتنا شغف ہوتا ہے کہ معاش کے حصول کے لئے کسی اور طرف توجہ ہی نہیں کر سکتے لیکن مال کی کمی کے باوجود وہ اپنے نفس کو سوال کی دناء ت سے بچاتے اور خاموش رہتے ہیں۔اور اس وجہ سے وہ لوگ جو غور کرنے کے عادی نہیں انہیں خوشحال سمجھ لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق تمہارا فرض ہے کہ تم خود ان کی ضروریات کا خیال رکھو اور ان کے لئے اپنے اموال کا ایک حصہ خرچ کرو۔اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کی راہ اختیار کرنے کی وجہ سے لوگوں نے کسبِ معاش سے روک دیا ہے جیسے کئی احمدی ہیں جن کو محض قبول احمدیت کی وجہ سے ملازمتوں وغیرہ سے الگ ہونا پڑ ایا کسبِ معاش کے ذرائع ان پر بند کئے گئے۔يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ایسے لوگ چونکہ دستِ سوال دراز نہیں کرتے اس لئے جاہل لوگ انہیں تعفف کی وجہ سے مالی امداد سے بالا سمجھتے ہیں حالانکہ عزّت نفس نے ان کے لبوں پر مہر خاموشی لگائی ہوئی ہوتی ہے ورنہ وہ بعض محتاج دکھائی دینے والوں سے بھی زیادہ قابلِ امداد ہوتے ہیں اور ان کا حق ہوتا ہے کہ ان کی