تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 496

چلا گیا۔(اقرب) اَلتَّعَفُّفُ عَفَّ الرَّجُلُ کے معنے ہیں کَفَّ عَمَّا لَایَحِلُّ وَ لَایَجْمُلُ قَوْلًا اَوْ فِعْلًا وَامْتَنَعَ۔اس چیز سے جو جائز او راچھی نہیںقولی یا فعلی طور پر رک گیا۔(اقرب) اس جگہ مِنْ کے معنے سبب کے ہیں۔جیسا کہ آتا ہے مِمَّاخَطِیْئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا (نوح:۲۶) وہ اپنے گناہوں کے سبب سے غرق کر دیئے گئے۔سِیْمَا کے معنے ہیں (۱) ہیئت (۲) علامت۔(اقرب) اِلْحَافًا اَلْحَفَ السَّائِلُ کے معنے ہیں اَلَـحَّ۔سائل نے اصرار سے کام لیا۔اور اَلْحَفَ فُـلَانًا الثَّوْبَ کے معنے ہیں اَلْبَسَہٗ اِیَّاہُ اسے لباس پہنا دیا گیا۔پس اِلْحَافٌ کے معنے ہوئے پہنانا یعنی سوال پہنا دینا مراد اِس سے یہ ہے کہ کسی کا پیچھا نہ چھوڑنا اور سوال کرتے چلے جانا۔(اقرب) تفسیر۔لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ یہ ایک محذوف کی خبر ہے جو ھِیَ کا لفظ ہے۔اور اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ صدقہ کا حکم جو تمہیں دیا گیا ہے یہ فقراء کے لئے ہے۔یا اس جگہ ایک فعل محذوف ہے۔جو اِجْعَلُوْھَا ہے۔یعنی اس صدقہ کو ان فقراء کے لئے مخصوص کردو جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں روکے گئے ہیں۔یہاں اُحْصِرُوْا تو فرما دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ کون روکتا ہے یا وہ کس وجہ سے رکتے ہیں۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے عام رکھنا چاہتا ہے کیونکہ روکے جانے کی کئی وجوہ ہو سکتی تھیں۔بہرحال اس سے یہ امر یقینی طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نکمے اور سست نہیں ہوتے بلکہ کسی مجبوری کی وجہ سے بیٹھے ہوتے ہیں۔آگے وہ مجبوری بیان نہیں کی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دشمن روکنے والا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدمت دین کے کاموں میں رات دن مصروف رہنے کی وجہ سے دنیا کمانے کے دروازے ان پر بند ہوں۔جیسے صحابہؓمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبۂ عشق اور آپ کی صحبت میں بیٹھنے کی تمنّا اور دین اسلام سیکھنے کی تڑپ اتنا کام کررہی تھی کہ انہیں کسی اور بات کی طرف توجہ ہی نہیں تھی۔اس کی مثال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف تین سال قبل ایمان لائے تھے۔وہ خودبیان کرتے ہیں کہ میں چونکہ بعد میں ایمان لایا تھا۔اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں آپؐ کے دروازہ کو نہیں چھوڑوں گا۔چنانچہ وہ اپناتمام وقت مسجد میں گذارتے اور قضائے حاجات کے بعد پھر وہیں آکر بیٹھ جاتے۔ان کو کہیں باہر جانا پسند ہی نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کوئی بات فرمائیں اور وہ اسے سن نہ سکیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین سال کے عرصہ کی صحبت پانے کے باوجود اس قدر حدیثیں بیان کی ہیں کہ ان