تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 498

مناسب امداد کی جائے اور ان کی پریشانیوں کو دور کیا جائے تاکہ وہ دینی خدمات کو خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکیں۔میں نے دیکھا ہے عام طور پر لوگوں کو یہ عادت پڑی ہوئی ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے کسی نے مانگا ہے کہ ہم دیں۔حالانکہ یہ آیت بتاتی ہے کہ مومن کا یہ ذاتی فرض ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھول کر حالات کا صحیح جائزہ لے اور دیکھتا رہے کہ کون حاجتمند ہے اور کون ہے جسے عزتِ نفس نے سوال کرنے سے روک رکھا ہے۔تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ میں بتایا کہ تو ان کی علامت یا شکل ہی سے ان کو پہچان لیتا ہے۔سِیْمَاکے معنے اگر شکل اور حالت کے لئے جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ تو ان کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ وہ مالی پریشانی کا شکار ہیں اور اگر علامت کے معنے لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو ان کا دریدہ لباس اور ان کی پھٹی پرانی جوتی۔ان کی بوسیدہ پگڑی اور ان کی سادہ طرز رہائش پر نظر ڈال کر پہچان لیتا ہے کہ یہ لوگ قابلِ امداد ہیں۔اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے مومنوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ہمارا رسول تو ایسے لوگوں کو پہچان لیتا ہے پھر تم کیوں نہیں پہچانتے اور کیوں اپنی آنکھیں کھول کر نہیں رکھتے۔اس بارہ میں احادیث میں حضرت ابوہریرہؓ ہی کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ایک دن وہ سخت بھوکے تھے۔حضرت ابوبکرؓ پاس سے گذرے تو انہوں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔وہ بتا کر چلے گئے۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ کیا میں ان سے کم معنے جانتا ہوں کہ وہ معنے بتانے لگ گئے؟ میرا تو یہ مطلب تھا کہ وہ شکل دیکھ کر پہچان لیں اور مجھے کچھ کھانے کو دیں۔پھر حضرت عمرؓ پاس سے گزرے انہوں نے آپ سے بھی ایک آیت کا مطلب پوچھا۔وہ بھی معنے بتا کر چلے گئے۔حضرت ابوہریرہؓ پھر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ کیا ابوہریرہ ؓ ان سے کم معنے جانتا ہے کہ انہوں نے آیت کے معنے بتائے اور چلے گئے۔اتنے میں مسجد کی ایک طرف سے کھڑکی کھلی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے پیار سے فرمایا۔ابوہریرہ! معلوم ہوتا ہے۔تم بھوکے ہو۔پھر آپ نے فرمایا۔اگر مسجد میں کچھ اَور لوگ بھی بیٹھے ہوں تو ان کو بھی بلا لائو۔اس وقت مسجد میں سات آدمی تھے۔حضرت ابوہریرہؓ ان کو بلا لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا ایک پیالہ دے کر فرمایا کہ پہلے ان کو پلائو۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں۔میرے دل میں خیال آیا کہ بھوک تو مجھے لگی ہوئی ہے اگر انہوں نے دودھ پی لیا تو میرے لئے کیا بچے گا۔لیکن میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ان کو باری باری دودھ پلایا اور سب نے پی لیا مگر پھر بھی وہ پیالہ اسی طرح بھرا رہا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ابوہریرہ! اب تم پیو۔آخر میں نے پیا اور خوب پیا۔جب میں سیر ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پیو۔میں نے پھر پیا۔آپ نے فرمایا۔