تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 495
نے اس امر کو اِبْتِغَآءَ لِوَجْهِ اللّٰهِ کے بعد بیان کیا ہے۔حالانکہ جہاں یہ بتایا تھا کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا فائدہ تمہاری جانوں کو پہنچے گا اسی جگہ یہ بات بھی بیان کی جا سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو بعد میں رکھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک مزید بات یہ بیان کی گئی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے اسے تو پورا پورا بدلہ مل جاتا ہے مگر جو شخص دنیا کی خاطر دیتا ہے اسے دنیا میں تو لوگوں کی خوشنودی حاصل ہو جاتی ہے مگر آخرت میں اسے کوئی انعام نہیں ملتا۔آخر میں وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ کہہ کر ایک اور ظلم کی بھی نفی کی گئی ہے جس کا گذشتہ آیات کے تسلسل میں جنگ کے ساتھ تعلق ہے جو قوم جنگ کے موقعہ پر اپنا مال خرچ نہ کرے وہ تباہ ہو جاتی ہے اور دوسری قوم غالب آکر اسے اپنے مظالم کا تختہ مشق بنا لیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اپنا مال خرچ کرو گے تو تم ہی غالب رہو گے اور کوئی دوسری قوم تمہیںمغلوب کر کے تم پر ظلم نہیں کر سکے گی۔لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ (یہ مذکورہ بالا صدقات )ان محتاجوں کے لئے ہیںجو اللہ کی راہ میں (دوسرے کاموں سے) روکے گئے ہیں۔وہ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ١ٞيَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ ملک میں (آزادی سے )آ جا نہیں سکتے (ایک) بے خبر(شخص ان کے) سوال سے بچنے کے سبب سے انہیں غنی خیال التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ١ۚ لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ کرتاہے۔تم ان کی ہیئت سے پہچان سکتے ہو۔وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔اور تم جو اچھا مال بھی اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۷۴ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔حلّ لُغات۔ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ضَرَبَ فِی الْاَرْضِ کے معنے ہیں خَرَجَ تَاجِرًا اَوْ غَازِیًا وہ تجارت کرنے یا جنگ کرنے کے لئے نکل گیا۔اور ضَرَبَ کے معنے اَسْرَعَ اور ذَھَبَ کے بھی ہیں یعنی اس نے جلدی کی اور