تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 475
مقصود نہ ہو بلکہ محض لوگوں کو خوش کرنا مدّنظر ہو ورنہ ایمان باللہ و الیوم الاٰخر کے ساتھ لوگوں کو محض نیکی کی تحریص و ترغیب دلانے کے لئے اپنی بعض قربانیوں کا اظہار منع نہیں بلکہ ایک قابلِ تعریف فعل ہے۔چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنْ تُبْدُوْا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ وَ اِنْ تُخْفُوْھَا وَ تُؤْتُوْھَا الْفُقَرَآئَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ (البقرۃ:۲۷۲) یعنی اگر تم علی الاعلان صدقے دو تو یہ بھی بہت اچھا طریق ہے اور اگر تم اپنے صدقات چھپا کر غریبوں کو دو تو یہ تمہارے نفس کے لئے زیادہ اچھا ہے۔دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ریا کار کو خدا تعالیٰ اور یوم آخر پر ایمان نہیں ہوتا کیونکہ احسان وہی جتلاتا ہے جسے خدا تعالیٰ پر ایمان نہ ہو۔اگر وہ اس نعمت کو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی سمجھے اور اسی سے اجر کی امید رکھے تو لوگوں کی واہ واہ کا وہ خواہش مند ہی کیوں ہو؟ اسی طرح اگر اسے یقین ہو کہ آخرت میں اجر ملے گا تو وہ کیوں اسی مسکین سے خدمت لے کر اپنا اجر پورا کرنا چاہے جس کی اس نے تھوڑی بہت مدد کی ہے؟ یہی حکمت ہے جس کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے منّ اور اذًی کے مقابلہ میں ریاء الناس اور لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ رکھا ہے۔کیونکہ مَنّ ریاء الناس کے لئے کیا جاتا ہے۔اور اَذًی سے مراد اس پر بوجھ رکھنا ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب انسان کو اپنے صدقہ اور خیرات کی خدا سے جزا ملنے کی امید نہ ہو اور یوم آخر پر یقین نہ ہو۔فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ۔اب اللہ تعالیٰ ایک اور تمثیل بیان فرماتا ہے کہ خرچ کرنے کو تو ایک ریا کار بھی اپنا مال خرچ کرتا ہے مگر اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پتھر ہو۔اس پر کچھ مٹی پڑی ہوئی ہو اور اوپر سے زور کی بارش برس جائے تو بجائے دانہ اُگنے کے وہ دُھل کر صاف ہو جائے گا۔یہی اس شخص کا حال ہے کہ جب تک صدقہ نہیں دیا تھا تب تک تو اس کی کسی قدر اچھی حالت تھی لیکن صدقہ دےکر اور پھر مَنّ وَاَذًی سے کام لے کر یاریا کر کے ایک خطرناک بدی میں مبتلا ہو گیا اور یہ اچھا فعل بجائے مفید ہونے کے مضر ہو گیا۔گویا تھوڑی بہت جو فصل اُگنے کی اُمید تھی وہ بھی جاتی رہی۔وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے اور اپنے آپ کو مضبوط کر نے تَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کے( خرچ کی )حالت اس باغ کی حالت کے مشابہ ہے جو اونچی جگہ پر ہو