تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 476

فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اور اس پر تیز بارش ہو ئی ہو۔جس (کی وجہ )سے وہ اپنا پھل دو چند لایا ہو۔اور (اس کی یہ کیفیت ہو کہ) اگر اس پر اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۲۶۶ زور کی بارش نہ پڑے تو تھوڑی سی بارش ہی (اس کے لئے کافی ہو جائے )اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔حل لغات۔اِبْتِغَآءَ یہ حال ہے اور اس کے معنے ہیں ’’چاہتے ہوئے‘‘۔لیکن یہ مفعول لہٗ بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی چاہنے کے لئے۔(اقرب) تَثْبیْتًا یہ بھی حال ہے۔اس کے معنے ہیں اپنی جانوں کو مضبوط کرتے ہوئے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مِنْ کے معنے ل کے ہوں۔چنانچہ کہتے ہیں۔فَعَلْتُ ذَالِکَ کَسْرًا مِّنْ شَھْوَتِیْ یعنی میں نے اپنی شہوت توڑنے کے لئے فلاں کام کیا۔اسی طرح یہاں مِنْ کے معنے ہیں کہ اپنے نفسوں کی ثابت قدمی کے لئے۔تثبیت کے ایک معنے ہیں کسی چیز کو گاڑ دینا۔نفس کو گاڑ دینے کے معنے یہ ہوں گے کہ جس بات پر اسے قائم کریں اس پر وہ مضبوط ہو جائے۔اس میں پختگی پیدا ہو جائے۔استقلال اور مردانگی آجائے۔(اقرب) رَبْوَۃٌ مَا ارْتَفَعَ مِنَ الْاَرْضِ۔زمین کا وہ حصہ جو بلند ہو۔(اقرب) وَابِلٌ اَلْوَابِلُ اَ لْمَطَرُ الشَّدِیْدُ وَالضَّخِیْمُ الْقَطَرِ۔موٹے موٹے قطرات والی سخت زور کی بارش۔اٰتَتْ (۱) دِیئے (۲) لائے۔(اقرب) ضِعْفَیْن (۱) بڑھا چڑھا کر (۲) دوہرے دوہرے کر کے۔بعض جگہ کسی اسم کے دُہرانے کی بجائے اسے تثنیہ کر دیتے ہیں۔اصل میں ضِعْفًا وَ ضِعْفًا تھا اس کی بجائے ضِعْفَیْنِ کر دیا۔(اقرب) اَلطَّلُّ اَضْعَفُ الْمَطَرِ کمزور ہلکی بارش اَلنَّدٰی۔شبنم۔اوس۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔وہ لوگ جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ ہو اور وہ اونچی جگہ پر ہو۔اس جگہ رَبْوَۃ کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ اونچی جگہ ہمیشہ سیلاب سے محفوظ رہتی ہے۔جب بارش ہوتی ہے تو نشیب زمین میں پانی ٹھہر جاتا ہے جس سے کھیتوں کو نقصان پہنچتا ہے مگر اونچی جگہ محفوظ رہتی ہے۔ایسی جگہ پر تیز بارش ہو تو کھیتی بہت پھل