تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 474

میں ضرور مخفی تھی ورنہ وہ مَنّ وَ اَذًی سے کیوں کام لیتا۔اس آیت میں ریا کی ممانعت کے ساتھ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ کے الفاظ اس لئے بڑھائے گئے ہیں کہ بعض دفعہ ایمان باللہ و الیوم الاٰخر کے ماتحت دوسروں کی تحریص کے لئے لوگوں کو دکھا کر اپنا مال خرچ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّھَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ (البقرۃ: ۲۷۵) یعنی جو لوگ رات اور دن پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرتے رہتے ہیں ان کے ربّ کے پاس ان کا اجر محفوظ ہے۔اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ بعض دفعہ دوسروں کو دکھانے کے لئے کام کرنا بھی موجب ثواب ہوتا ہے جبکہ نیت یہ ہو کہ دوسروں کو نیکی کی تحریک ہو۔لیکن اگر یہ نیت نہ ہو بلکہ ریاء فخر ومباہات کے لئے ہو تو ایسا فعل اعمال نیک کو اسی طرح ضائع کر دیتا ہے جس طرح ایک پتھر جس پر مٹی جمی ہوئی ہو جب اس پر بارش پڑے تو بجائے اس کے کہ اس پردانہ اُگے بارش مٹی کو بہا کر لے جاتی ہے اور دانہ اُگنے کا احتمال بھی باقی نہیں رہتا۔اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اعلیٰ درجہ کا کام کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو بھی اس کا علم ہو مگر کوئی تو اس لئے اس کا اظہار کرتا ہے کہ دوسروں پر فخر کرے اور کوئی اس نیت سے اظہار کرتا ہے کہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔دیکھو! قرآن کریم ادھر تو کہتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح مت بنو جو ریا کے طور پر مال خرچ کرتے ہیں۔مگر ادھر کہتا ہے۔وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحٰی: ۱۲) یعنی تمہیں خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں بخشی ہیں ان کا لوگوں میں اظہار کرو۔اب یہ اظہار ریا نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ لوگ بھی ان انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔پس ہر قسم کا اظہار ریا نہیں ہوتا۔بلکہ بعض حالات میں نیکیوں کا اظہار ریا ہوتا ہے اور بعض دوسرے حالات میں ریاء نہیں ہوتا۔مثلاً اگر ایک شخص اچھے کپڑے پہن کر اس لئے لوگوں میں جاتا ہے کہ وہ اسے بڑا مال دار سمجھیں تو یہ ریا ہے۔لیکن اگر وہی شخص عید کے دن یا جمعہ کے دن عمدہ لباس پہن کر اس لئے نکلے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کی تعمیل ہو تو یہ ریا نہیں ہو گا۔یا مثلاً کہیں بخار پھیلا ہوا ہو اور کسی کے پاس کونین ہو اور وہ لوگوں کو بتائے کہ میرے پاس کونین ہے تو یہ ریا نہیں ہو گا اور کوئی نہیں کہے گا کہ یہ اپنی عقل مندی جتا رہا ہے کہ میں نے پہلے سے ہی کونین کا انتظام کر رکھا تھا بلکہ ہر شخص اس کے اس اظہار سے خوش ہو گا اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔پس ریاء الناس اسی صورت میں گناہ ہے۔جب ایسے شخص کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہ ہو اور اس سے اجر لینا