تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 457
عزیر کو مارنے کی کیا ضرورت تھی؟اسی طرح سوال یہ ہے کہ انہوں نے کونسی بات پوچھی تھی جس کا جواب یہ دیا گیا کہ َاُنْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ۔ان کاسوال تو یہ تھا کہ بستی کس طرح زندہ ہو گی؟ مگر جواب یہ دیا گیا کہ تُو اپنے کھانے اور پینے کے سامان کی طرف دیکھ کہ وہ سڑا نہیں۔پس اوّل تو ھٰذِہٖ کا لفظ بتلاتا ہے کہ اس جگہ لوگوں کے مرنے اور دوبارہ زندہ ہونےکا کوئی سوال نہیں بلکہ صرف شہر کی آبادی اور اس کی دوبارہ حیات کا سوال تھا۔دوسرے مِائَۃَ عَامٍ میں بتلا دیا کہ اَنّٰی کے ساتھ’’کب‘‘ کا سوال کیا گیا تھا نہ کہ ’’کیسے ‘‘ کا۔یعنی سوال کیفیت کے متعلق نہ تھا بلکہ زمانہ کے متعلق تھا۔غرض مفسّرین کے بیان کردہ واقعہ پر کئی اعتراضات پڑتے ہیں۔پہلا اعتراض تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عزیر کو کیوں مارا۔اگر وہ نبی تھا تو یہ اس کے سوال کا اچھا جواب دیا کہ اسے سو سال تک مارے رکھا۔اس عرصہ میں اس کے بیوی بچے بھی مر گئے اور اسے ایک صدی کے بعد غیر لوگوںمیں زندہ کر کے بٹھلا دیا۔اس شخص کو مار کر زندہ کرنے کی غرض زیادہ سے زیادہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح مُردوں کو زندہ کیا کرتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ پھر گدھے کو گوشت پوست چڑھانے کی کیا ضرورت تھی؟اس ثبوت کے لئے تو صرف گدھے کا مر کر جینا ہی کافی تھا۔خود عزیر کو مارنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پھر یہ سنت اللہ کے بھی خلاف ہے کہ کسی مُردہ کو زندہ کیا جائے۔اور پھر اگر خدا تعالیٰ نے انہیں سو سال تک مارے رکھا تو اس کے ثبوت میں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ دیکھو!تمہارا کھانا سڑا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ کھانا پینا تو الگ رہا دنیا ہی بدل چکی ہے جواس بات کا ثبوت ہے کہ تُو سو سال تک واقعہ میں مرا رہا تھا۔مگر اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔غرض ان تمام امور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسّرین نے اس واقعہ کو جس رنگ میں پیش کیا ہے وہ درست نہیں۔اب میں اس واقعہ کی وہ حقیقت بیان کرتا ہوں جو میرے نزدیک درست ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اس شخص کی طرف دیکھ جو ایک بستی یا گائوں پر سے ایسی حالت میں کہ وہ اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا گذرا اور اس نے سوال کیا کہ الہٰی یہ بستی اپنی ویرانی کے بعد کب آباد ہو گی؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک مارے رکھا (یعنی خواب میں ) اور پھر اسے اٹھایا۔اور اس سے پوچھا کہ تُو کتنی دیر تک رہا ہے۔اس نے کہا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات تو درست ہے لیکن اس کے علاوہ ہم تجھے ایک اور بات بھی بتاتے ہیں کہ تو سو سال تک بھی رہا ہے۔تیری بات کے سچا ہونےکا تو ثبوت یہ ہے کہ تو اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ وہ سڑا نہیں۔لیکن میری بات کے