تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 456
ہڈیوں پر گو شت پو ست چڑھا دیا۔میرے نز دیک اگر یہ وا قعہ اسی طرح ہوا ہو جس طرح مفسّرین بیان کر تے ہیں تو خود اس آیت کے مختلف ٹکڑے اس بیان کو با طل قراد دیتے ہیں چنا نچہ پہلی بات جو ان معنوں کو رد کر تی ہے وہ اَنّٰى يُحْيٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا کے الفاظ ہیں۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس نبی کا سوال صرف بستی کے متعلق تھا کہ اللّہ تعالیٰ اسے کس طرح زندہ کرےگا؟ یہ سوال نہیں تھا کہ مُردے کس طرح زندہ ہوںگے؟ اگر مُردوں کے زندہ ہونےکا سوال ہوتا تو کیا ان کے سامنے روزانہ کئی لوگ مرتے نہیں تھے؟ اور جب وہ روزانہ یہ نظارہ دیکھتے تھے کہ لوگ مر کر زندہ نہیں ہوتے تو اس دن ایک تباہ شدہ بستی کو دیکھ کر ان کے دل میں مردوں کے زندہ ہونے کے متعلق کیسے سوال پیدا ہو گیا؟ اور اگر ان کا سوال صرف بستی کے دوبارہ زندہ کئے جانے کے متعلق تھا تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بستی کے مردہ ہونے سے اس کا اجڑنا اور زندہ ہونے سے اس کا آباد ہونا ہی مراد ہواکرتا ہے۔مردوں کے زندہ ہونے سے اس سوال کا کوئی تعلق نہیں۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اَنّٰى سے مراد ’’کب تک‘‘ ہے یا ’’کیسے ‘‘ ہے۔اگر کسی سوال کرنے والے کے جواب میں ’’سو سال ‘‘کا لفظ بولا جائے تو اس کے یہی معنے ہوںگے کہ سائل کا سوال ’’کب تک ‘‘کا ہے’’کیسے‘‘ کا نہیں۔ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سائل تو یہ سوال کرے کہ یہ بستی کس طرح زندہ ہو گی اور جواب یہ دیا جائے کہ سو سال کے بعد زندہ ہو جائے گی۔سو سال کے الفاظ صاف طور پر بتا رہے ہیں کہ سوال کب کے متعلق ہے نہ کہ کیفیت کے متعلق۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ۔اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک مارے رکھا پھر زندہ کر دیا۔اب سوال یہ ہے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا؟ اگر تو حضرت عزیر کی یہ غرض تھی کہ وہ دیکھیں کہ مُردے کس طرح زندہ ہوتے ہیں تو اُن کو مار کر پھر زندہ کر دینے سے یہ غرض پوری نہیں ہو سکتی تھی۔کیونکہ موت کے بعد وہ یہ کس طرح جان سکتے تھےکہ مُردہ کس طرح زندہ ہو ا کرتا ہے۔اور اگر ان کی دوبارہ حیات سے اللہ تعالیٰ کا منشاء پورا ہو گیا تھا تو پھر وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا پر یہ اعتراض پڑتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے صرف گدھے کو ہی مار کر اور پھر اسے زندہ کر کے انہیں اپنی قدرت کا نظارہ کیوں نہ دکھا دیا؟ خود انہیں سو سال تک کیوں مارے رکھا؟ آخر اپنی موت سے تو اس بات کا پتہ نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ مُردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔یہ تو دوسرے کو دیکھ کر ہی پتہ لگتاہے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے گدھے کو بھی مارنا تھا تو پھر ان کو مارنے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں نہ کیا گیا کہ اس بستی میں سے ہی کسی ایک کو مار کر اسے زندہ کر کے دکھا دیا جاتا خود