تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 458

سچا ہونےکا ثبوت یہ ہےکہ ہم نے تجھے کشفی حالت میں سو سال کا نظارہ دکھایا ہے اور جب یہ رؤیا پورا ہو گا اس وقت لوگوں کو تسلیم کرنا پڑےگا کہ تیرا خدا کے ساتھ سچا تعلق تھا۔جب اس پر یہ حقیقت روشن ہو گئی۔تو اس نے کہا میں ایمان لاتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اوراس کے آگے یہ کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ ایسی اُجڑی ہوئی بستی کو اپنے فضل سے پھر دوبارہ آباد کر دے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اس بستی سے یروشلم مراد لیا کرتے تھے۔جسے بخت نصر نے تباہ کر دیا تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ وہ آدمی جویروشلم کے پاس سے گزرا حزقیل نبی تھا۔جس پر خدا تعالیٰ نے اس بات کاانکشاف کیا کہ ایک سو سال تک یہ شہر دوبارہ آباد ہو جائےگا(حقائق الفرقان جلد ۱ زیر آیت ھذا)۔اور میرے نزدیک یہی بات درست ہے۔یہاںاس بستی کے متعلق خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔جس کے معنے یہ ہیںکہ وہ گائوں اپنی چھتوںپر گرا ہوا تھا۔یعنی پہلے چھتیںگریں اور پھر ان پر دیواریں گر گئیں۔کیونکہ جو مکان عدم استعمال کی وجہ سے گریںبالعموم پہلے ان کی چھتیںگرتی ہیں۔کیونکہ چھتوں میں لکڑی ہوتی ہے اور لکڑی کو دیمک لگ جاتی ہے جب چھتیںگر جاتی ہیں تو پھر بارش کی وجہ سے ننگی دیواریں بھی گرنے لگتی ہیں اور اس صورت میں وہ دیواریں چھتوں پر آ گرتی ہیں۔اسی حالت کو واضح کرنے کے لئے خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ورنہ جو مکان زلزلہ وغیرہ کی قسم کے حادثات سے گرتے ہیں۔ان کی دیواریں پہلے گرتی ہیں اور چھت ان پر آگرتی ہے۔ان الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کیا گیا ہے کہ اس گائوں کی ویرانی کا سبب زلزلہ وغیرہ نہ تھا۔بلکہ اس کے باشندوں کا شہر چھوڑ کر چلا جانا اس کا موجب تھا۔بہر حال حزقیل نبی کے دل میںیروشلم کی بربادی دیکھ کر یہ سوال پیداہوا کہ خدا تعالیٰ اس بستی کو کب زندہ کرے گا؟ بستی کو زندہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ مردہ لوگ کس طرح زندہ ہوںگے۔بلکہ اس کا مطلوب وہی ہے جو دوسر ی جگہ بستیوں کو زندہ کرنے کے متعلق قرآن کریم نے بیان کیا ہے فرما تا ہے۔وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا۔لِّنُحْيِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا وَّ نُسْقِيَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِيَّ كَثِيْرًا۔(الفرقان: ۴۹،۵۰)یعنی ہم نے بادل سے پاک و صاف پانی اتارا ہے۔تاکہ اس کے ذریعہ ہم مُردہ ملک کو زندہ کریں اور اسی طرح اس پانی سے اپنے پیدا کیے ہوئے چارپائیوں اور بہت سے انسانوں کو سیراب کریں۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا(ق: ۱۲) ہم بارش کے ذریعہ مُردہ شہر کو زندہ کیا کرتے ہیں۔پس مُردہ شہر کو زندہ کرنے کے معنے ویران شہر کو آباد اور خوشحال کرنے کے ہوتے ہیں۔حضرت حزقیل نے بھی یہی سوال کیا کہ الٰہی ! یہ شہر کب آباد ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں رئویا میں بتایا کہ سو سال کے عرصہ میں آباد ہو جائے گا۔