تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 453
میرے نزدیک حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے نمرود سے جو یہ کہا کہ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کر تا اور مارتا ہے۔تو اس سے ان کی مراد ظا ہری موت اور حیات نہیں تھی۔بلکہ کا میابی اور نا کامی اور عزّت اور ذلّت اور آ بادی اور بر بادی مراد تھی۔چو نکہ آ پ سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو چکا تھا کہ وہ آپ کو کنعان کا ملک دےگا اور آپ کی اولاد کو غیر معمولی ترقی حا صل ہو گی۔اس لئےآپ نے فرمایا کہ میرا ربّ وہ ہے جواحیاء اور اماتت کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔وہ جس کو چاہتا ہے عزّت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔جس کو چاہتا ہے کامیاب کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ناکام کر دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے غلبہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے شکست دے دیتا ہے۔اِس پر اُس نے کہا اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ۔یہ بات تو میرے اختیار میں بھی ہے کہ میں جسے چاہوں ترقی دے دوں اور جسے چاہوں ذلیل کر دوں۔جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے سورج ان کا سب سے بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔اور بادشاہ بھی اُس کی پرستش کرتا تھااس لئے حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے اُسے جواب میں کہا کہ خدا تعالیٰ نے تو یہ سلسلہ جاری کیا ہوا ہے کہ وہ سورج کو مشرق سے چڑھاتا ہے اور اس طرح دنیا کو نفع پہنچاتا ہے۔لیکن اگر دنیا کو نفع پہنچانا تیرے اختیار میں ہے تو یہ جو سورج چڑھا ہوا ہے اِس کو مغرب سے مشرق کی طرف لوٹا دے۔وہ دن کا وقت تھا اور سورج چڑھا ہوا تھا۔حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے کہا اسے واپس لوٹا دے یعنی اسے پیچھے کو لے جا یا یہ کہا کہ اسے مغرب سے چڑھا لا۔گویا انہوں نے اسے کہا کہ اس پر اپنی حکومت قائم کرکے دکھا۔حضرت ابراہیمعلیہ السلام کا مدّعا یہ تھا کہ اگر دنیا کا نفع و نقصان تمہارے ہا تھ میں ہے تو پھر سورج کیا کر تا ہے اور اگر سورج نفع و نقصان پہنچا تا ہے تو نفع و نقصان پہنچا نے اور مالک ہو نے کا تمہارا دعویٰ با طل ہے۔اس پر جیسا کہ تا ریخ بتا تی ہے۔وہ مبہوت ہو کر لا جواب ہو گیا کیونکہ اگر وہ جواب دیتاتو یا تووہ یہ کہتا کہ میں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ سورج ہی پہنچا تاہے اور تر قی اور تنزل اسی کے اختیار میں ہے میرے اختیار میں نہیں۔اور اگر وہ ایسا کہتا تو اس سے اس کایہ دعویٰ با طل ہو جاتا کہ اَنَا اُحْيٖ وَ اُمِيْتُ۔اور اگر وہ یہ کہتا کہ میں ہی یہ تمام کام کر تا ہوں سورج نہیں کرتا اور نفع نقصان بھی میرے ہی اختیار میں ہے سورج کے اختیار میں نہیں تو اس پر اس کی قوم دشمن ہو جاتی کیو نکہ وہ سورج کی پر ستش کر تی تھی بلکہ وہ خود بھی سورج کا پر ستار تھا۔اس وجہ سے وہ کو ئی جواب نہ دے سکا اور خا موش ہو گیا۔اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ کا ثبوت دیا ہے اور بتا یا ہے کہ ہم اپنے بندوں کی مشکلات میں کس طرح ان کی مدد کر تے اور انہیں ظلمات سے نور کی طرف اور نا کا میوں سے