تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 452

پا نی بجھا دیتا ہے۔اس کی کیا پو جا کروں؟ اس نے کہا۔پھر پا نی کی کیوں نہیںکرتا۔انہوں نے کہا۔پا نی کو تو بادل لاتا ہے۔اس نے کہا۔پھر بادلوں کی کیوں نہیں کرتا۔انہوں نے کہا۔ان کو ہوا اُڑا لے جاتی ہے۔اس نے کہا۔پھر ہوا ہی کی کر۔انہوں نے کہا۔انسان اس سے بھی بچا ؤ کر لیتا ہے اور بچ جاتا ہے اور وہ اس پر غالب نہیں آ تی۔اس نے کہا۔پھر مجھے پُو جو۔کیونکہ میں انسا نوں کا خدا ہوں۔انہوں نے کہا کہ تمہارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں۔یہ بحث جس کا طا لمود میں ذکر کیا گیا ہے خود اپنی ذات میں اس امرکا ثبوت ہے کہ سورج کا ذکر پہلے نہیں ہوا بلکہ پہلے احیاء اورا ما تت کا ہی ذکر ہوا ہے ورنہ سورج کے ذکر کے بعد تو بحث آ گے چل ہی نہیں سکتی تھی کیو نکہ سورج ان میں سب سے بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا اور اس کو ہر قسم کی کا میا بیوں اور نا کا میوں اور تر قی اورتنزل کا اصل باعث قرار دیا جاتا تھا۔چنا نچہ نیلسنز انسا ئیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ میرےؔ ڈاک ان کا بڑا خدا تھاجسے سورج کی شعاع یا دن کی روشنی سمجھا جاتا تھا۔اور اسے بنی نوع انسان کی تر قی اور تنزل کا اصل با عث قرار دیا جاتا تھا۔(دیکھو نیلسنز انسا ئیکلو پیڈیا زیر لفظ ببلو نیا) پھر عقلاً بھی قر آن کریم کا کلام ہی درست ثا بت ہوتا ہے۔اوّل اس لئے کہ بحث میں نیچے سے اوپر تر قی ہوتی ہے۔پس موت اور حیات کا ذکر لا زماً سورج سے پہلے ہونا چاہیے نہ کہ بعد میں۔دوسرے درمیان میں نمرود کے چپ ہو جانےکا ذکر بتا تا ہے کہ یہ وا قعہ سب سے آ خر میں ہوا۔تیسرے نمرود کے سا منے پیش تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بتوں کے توڑنے کے جرم میں ہوئے تھے۔اس کا یہ سوال کہ میں خدا ہوں معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں بحث کے دوران میں پیدا ہوا ہے۔ورنہ بے جوڑ کلام ہو جاتا ہے۔قرآن کریم یہی بتا تاہے کہ بحث فِیْ رَبِّہٖ تھی۔یعنی خدا ئے واحد کے بارہ میںبحث میں با دشاہ نے کہیں کہہ دیا کہ دیکھ میں تجھے تباہ کر دوں گا کیو نکہ میں حاکم ہوں۔آپ نے فر ما یا تباہی یا آبادی تو خدا کے اختیار میں ہے۔اس پر اس نے اس احیاء اور اماتت کو اپنی طرف منسوب کیا۔اور کہا کہ نہیں میرے اختیار میں ہے۔آپ نے جھٹ اس کو پہلی بحث کے مطا بق پکڑا کہ پھر سورج عبث ہوا۔اور وہ چُپ ہو گیا۔اس واقعہ کے نا موں وغیرہ میں گو فر ق ہے لیکن یہو دی تا ریخ میں اس وا قعہ کو جس طرز پر بیان کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہی وا قعہ ہے جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے اور جس پر اَلَمْ تَرَ کے الفا ظ بھی دلالت کر تے ہیںکیو نکہ اَلَمْ تَرَ کے ساتھ کسی بے نشان واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کیا جا سکتا مگر یہودی بیان حسب معمول آ گے پیچھے ہو گیا ہے۔طالمود میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کی نمرود سے یہ بحث کنعان میں آنے سے پہلے ہو ئی تھی۔