تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 454
کامیا بیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ اور (کیا تو نے )اس شخص کی مثل( کوئی آدمی دیکھا ہے )جو ایک ایسے شہر کے پاس سے گزرا جس کی یہ حالت تھی کہ وہ قَالَ اَنّٰى يُحْيٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ اپنی چھتوں کے بل گِرا ہوا تھا۔(اس کو دیکھ کر )اس نے کہا کہ اللہ (تعالیٰ) اس کی ویرانی کے بعد اسے کب آباد مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ کرے گا؟ اس پر اللہ( تعالیٰ) نے اسے سو سال تک (خواب میں) مارے رکھا۔پھر اسے اٹھایا (اور) فرمایا( اے يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ میرے بندے )تو کتنے عرصہ تک (اس حالت میں )رہا ہے۔اس نے کہا میں (اس حالت میں )ایک دن یا دن کا فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى کچھ حصہ رہا ہوں۔تب (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا( یہ بھی ٹھیک ہے )اور تو (اس حالت میں )سو سال تک بھی رہا ہے۔حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ اب تو اپنے کھانے اور پینے (کے سامان) کی طرف دیکھ کہ وہ سڑا نہیں۔اور اپنے گدھے کی طرف (بھی )دیکھ(اور كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ١ۙ ان دونوں کا سلامت رہنا دیکھ کر سمجھ لے کہ تیرا خیال بھی اپنی جگہ درست ہے اور ہمارا خیال بھی) اور ایسا ہم نے اس