تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 416
یہ دونوں معنے لگ سکتے ہیں۔اگر فر اخی اور وسعت کے معنے لئے جا ئیں تو آ یت کا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے ذریعہ سے فو جیوں کو اس امر کی اطلا ع دی کہ تمہارا امتحان مال و دولت کی فرا خی سے لیا جائےگا۔اگر تم مال و دولت کے پیچھے پڑ گئے تو خدا تعالیٰ کا کام نہ ہو سکے گا۔اور اگر تم مال و دولت سے متا ثر نہ ہوئے تو تم کو کا میا بی ہو گی۔اس صورت میں فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ وغیرہ الفا ظ مجا زی معنو ں میں سمجھے جائیںگے لیکن چو نکہ ظاہری رنگ میں بھی طالوت کے سا تھیوں کا ایک نہر کے ذریعہ سے امتحان لیا گیا تھا۔ا س لئے ظاہری معنے لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔چو نکہ جنگ میں جلدی اور تیز حرکت کی ضرورت ہو تی ہے۔اور پیٹ کا پا نی سے بھر لینا تیز حرکت سے انسان کو محروم کر دیتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیاکہ ہلکے پیٹ رہو۔اور پانی کم پیئو۔تا کہ جنگ میں عمدگی سے کام کر سکو مگر اکثر لو گو ں نے اس حکمت کو نہ سمجھا اور خوب پیٹ بھر کر پا نی پیا۔اور بہت تھوڑی سی تعداد نے جو با ئیبل کے بیا ن کے مطا بق صرف تین سو تھی(قاضیوں باب ۷ آیت ۶) جنگی ضرورتوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے یو نہی چند گھونٹ پانی پیا تا کہ لڑائی کے وقت وہ اچھی طرح کام کر سکیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی قر بانیوں کا بدلہ دینے کے لئے اور ان کے اخلا ص کی قدر کرنے کے لئے فیصلہ کیا کہ صرف انہیں کے ہاتھ پر فتح ہو اور حکم دیاکہ انہی تین سو کو جنگ میں شامل کیا جائے باقی کو نہیں۔چنا نچہ انہی تین سو کو طا لوت نے جنگ میں شا مل کیا اوراللہ تعالیٰ نے انہی کے ہا تھ پر فتح عطا فرمائی۔كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ میں بتا یا گیا ہے کہ کتنی ہی چھو ٹی چھو ٹی جماعتیں ہو تی ہیں جواللہ تعالیٰ کےفضل کے ما تحت بڑی بڑی جما عتوں پر غالب آ جا یا کر تی ہیں۔اس غلبہ کی وجہ یہی ہو تی ہے کہ ان میں قر بانی اورایثار کا ما دہ ہوتا ہے وہ اپنا وقت ضا ئع کر نے کی بجا ئے اُسے مفید کاموں میں صرف کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔اُن میں دیا نت بھی ہو تی ہے۔صداقت بھی ہو تی ہے۔محنت کی عادت بھی ہو تی ہے پھر ان کے حو صلے بلند ہوتے ہیں۔ان کے ارادے پختہ ہو تے ہیں اور ان کے مقا بل میں جو لوگ کھڑے ہو تے ہیں وہ ان اوصاف سے خا لی ہو تے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قلیل غالب آ جاتے ہیں اور کثیر مغلوب ہو جا تے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک ایک آ دمی جس میں ایثار کا مادہ ہو تا ہے۔درجنوں پر بھاری ہوتا ہے۔پا گل کوہی دیکھ لو۔لوگ اس کا مقا بلہ کر نے سے گھبراتے ہیں۔حالانکہ وہ اکیلا ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ لو گ ڈرتے ہیں کہ انہیں چوٹ نہ آ جا ئے۔ان کو زخم نہ لگ جا ئے۔اور وہ اپنی طا قت کو صرف ایک حد تک استعمال کرتے ہیں۔لیکن پاگل کے لئے چوٹ اور زخم بلکہ موت کا بھی کو ئی سوال نہیں ہوتا۔اس لئے وہ اپنی طاقت اس حد تک استعمال کر تا ہے