تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 415

جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ سے پار اتر گئے( تو) انہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ کی بالکل طاقت نہیں (مگر) كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ وہ (ایک دن )اللہ سے ملنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ بہت سی چھوٹی جماعتیں اللہ کے وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۰۰۲۵۰ حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آچکی ہیں۔اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے (پس ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں)۔حلّ لُغات۔اِغْتَرَفَ اِغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہٖ غر فہ کا لفظ چو نکہ کئی معنوں میں استعمال ہو تا ہے اس لئے اس کے ساتھ یَدٌ بمعنی ہاتھ رکھ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے معنے محدود ہو گئے ہیں۔پس اِغْتَرَفَ غُرْ فَۃً کے معنے اس جگہ صرف چلو بھر لینے کے ہی ہیں۔(اقرب) کَمْ یہ لفظ اس جگہ کثرت کے اظہار کےلئے استعمال ہوا ہے۔یعنی کتنے ہی ایسے گروہ ہیں جو قلیل ہو نے کے باوجود دوسروں پر غالب آئےلیکن بعض لو گو ں نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ اس سے کثرت مراد ہو بلکہ کسی قدر تعداد کا پایا جا نا بھی کا فی ہے خواہ ایسے گر وہوں کی تعداد تھوڑی ہی ہو۔(رازی زیر آیت ھٰذا) فِئَۃٌ جما عت کو کہتے ہیں۔یہ لفظ فَاءَ سے نکلا ہے جس کے معنے جھکنے کے ہیں۔چو نکہ جما عت بھی ایک دوسرے کی مدد پر بھروسہ کر تی ہے۔اور اس کے افراد بھی ایک دوسرے کی طرف جھکتے ہیں۔اگر ایک کو دکھ ہو تو وہ دوسرے پر اعتماد کر تا ہے اس لئے اسے فِئَۃٌ کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔جب طا لوت اپنے لشکر کو لے کر جا لوت کے مقا بلہ میں نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ان کاایک نہر کے ذریعے پھر امتحان لیا۔تا کہ جو کمزور ایمان والے ہیں وہ الگ ہو جائیں اور صرف وہی لوگ دشمن کے مقا بلہ میں صف آ راء ہوں جو کامل الا یمان ہوں اور جن کی تا ئید میں ملا ئکہ کام کر رہے ہوں۔نہر کا تر جمہ ندی کیا گیا ہے۔لیکن ھاء کی زبر سے جب یہ لفظ ہو تو اس کے دو معنے ہو تے ہیں۔ندی بھی اور فر اخی اور وسعت بھی (مفردات) اس آ یت میں