تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 414

جائے۔چنا نچہ لکھا ہے۔’’ جیسے ان کے باپ کو مسح کر ے۔ویسے ہی ان کو بھی مسح کر نا۔تا کہ وہ میرے لئے کاہن کی خدمت کوانجام دیں۔اور ان کا مسح ہو نا ان کے لئے نسل در نسل ابد ی کہا نت کا نشان ہو گا۔‘‘ پس بے شک ہر اہل میں خو بیوں کا مو جود ہونا ضروری نہیں مگر مو سٰی اور ہارونؑ کے متعلقین اور ان کے خا ص متبعین میں اللہ تعا لیٰ نے اعلیٰ درجہ کے اخلا ق یقینی طور پر ودیعت کر دئیے تھے۔اور طا لو ت کے خدائی انتخاب کا یہ ثبوت بتا یا گیا تھا کہ اللہ تعا لیٰ نے جوروحا نیت آل مو سٰی اور آل ہارونؑ میں رکھی تھی اور جن بلند اخلا ق اور کر دار کا انہوں نے مظاہرہ کیا تھا وہی تقویٰ اور وہی روحا نیت اور وہی بلند اخلا قی طا لوت کے ساتھیوں میںبھی پیدا کر دی جائےگی اور یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ جس شخص کی انہوں نے متا بعت اختیار کی ہے وہ خدا تعالیٰ کا فر ستادہ ہے۔فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ پھر جب طالوت اپنی فوجوں کو لے کر نکلا تو اس نے کہا کہ اللہ (تعالیٰ )ایک ندی کے ذریعہ سے یقیناً تمہارا امتحان بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّيْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ لینے والا ہے۔پس جس نے اس( نہر) میں سے (پیٹ بھر کر پانی) پی لیا وہ مجھ سے (وابستہ) نہیں (رہے گا ) يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّيْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ١ۚ اور جس نے اس سے نہ چکھا وہ یقیناً مجھ سے (وابستہ )ہو گا۔سوائے اس کے جس نے اس میں سے (فقط )اپنے فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِيْنَ ہاتھوں سے ایک چلّو لے (کر پی) لیا( کہ اس پر کوئی الزام نہ ہو گا) پھر ( ہوایہ کہ )ان میں سے چند ایک کے سوا (باقی اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ سب نے )اس میں سے (پانی) پی لیا۔پھر جب وہ خود اور (نیز )وہ لوگ جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اس ندی