تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 413

اللہ تعالیٰ کے قا ئم کر دہ خلفا ء سے مخلصا نہ تعلق قا ئم رکھا جا ئے اور ان کی اطا عت کی جا ئے۔چنا نچہ اس جگہ طا لوت کے انتخاب میں خدا ئی ہا تھ کا ثبوت یہی پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں خدا تعالیٰ کی طر ف سے نئے دل ملیں گے جن میں سکینت کا نز ول ہو گااور خدا تعالیٰ کے ملا ئکہ ان دلوں کو اٹھائے ہو ئےہو ںگے۔گو یا طا لوت کے سا تھ تعلق پیدا کرنے کے نتیجہ میں تم میں ایک تغیر عظیم واقع ہو جائے گا تمہاری ہمتیںبلند ہو جا ئیںگی۔تمہارے ایمان اور یقین میں اضا فہ ہو جا ئےگا۔ملا ئکہ تمہاری تا ئید کے لئے کھڑے ہوجا ئیں گے اور تمہارے دلوں میں استقا مت اور قر با نی کی روح پھو نکتے رہیں گے۔پس سچے خلفاء سے تعلق رکھنا ملا ئکہ سے تعلق پیدا کر دیتا اور انسا ن کو انوار الٰہیہ کا مہبط بنا دیتا ہے۔اب بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ کا حل کر نا با قی رہ گیا۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ بَقِیَّۃٌ کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بتا یا جا چکا ہے اعلیٰ شے کے ہوتے ہیں۔پس بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ سے مراد وہ اخلا ق فا ضلہ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑاور حضرت ہا رون ؑ کے متبعین اور آ پ کے مقربین سے ظاہر ہو تے تھے۔اور آ یت کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے دل ان خو بیوں کے وارث ہوںگے جو آ لِ موسیٰ ؑ اور آل ہا رونؑ نے چھوڑیں ہیں۔یہ ویسا ہی فقرہ ہے جیسے حضرت زکریا ؑنےدُعا کر تے ہوئے کہا تھاکہ الٰہی مجھے ایک ایسا لڑکا عطا فرما یَرِ ثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ(مریم: ۷) جو میرا اور آلِ یعقوب کا وارث ہو۔اور مطلب یہ تھا کہ ان کے اخلا ق حسنہ اور خوبیوں کا وارث ہو نہ یہ کہ اُن کی جا ئیداد کا وارث ہو کیو نکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو وفات پا ئے قر یباً ایک سو پشت گزر چکی تھی۔غرض بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ سے یہ مراد ہے کہ طا لو ت کے سا تھیوں میں وہی اخلاق فاضلہ اللہ تعا لیٰ پیدا کر دے گا جو آل مو سیٰ ؑ اور آ ل ہا رون ؑ میں تھے۔آ ل مو سٰی و اٰل ہا رون سے یہ مراد نہیں کہ ان دونوں کی الگ الگ اُمتیں تھیں۔یہ بات تو با لبداہت باطل ہے ایک قوم میں اور ایک وقت میں اور ایک شریعت پر عمل کر نے والی دو اُمتیں کس طرح ہو سکتی ہیں؟ اس کا مطلب اہل یعنی اقارب سے ہے اور مراد یہ ہے کہ ان دونوں نبیوں کی اولادوں میں جو خو بیاں تھیں وہ ان میں بھی آ جائیں گی۔اگر کہو کہ اہل میں خو بی ہو نا ضروری نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ بَقِیَّۃٌ کے لفظ نے بتا دیا ہے کہ اس جگہ خو بیاں مراد ہیں۔دوسرے با ئیبل کی کتا ب خروج باب ۴۰ آ یت ۱۲ تا۱۵ سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ ہارون کو مقدس لباس پہنا یا جائے اور نہ صرف اس کی عزت افزائی کی جائے بلکہ اس کی تمام اولاد کی عزت کر نا بھی بنی اسرائیل پر فرض قرار دیا جا ئے۔اور عبا دت گا ہوں کا انتظام ان کے سپر د کیا