تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 395
زندگی مل جاتی ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی تھے۔صحابہ ؓ کے سامنے موت پیش ہوئی اور انہوں نے اسے قبول کر لیا۔جس کے نتیجہ میں انہیں ہمیشہ کی زندگی مل گئی۔جنگ بدر کے موقعہ پر تمام صحابہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نہیں گئے تھے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض مصالح کی بناء پر انہیں جنگ کی خبر نہیں دی تھی گو آپ کو اس کا علم تھا۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ سے باہر جا کر لڑنے کا ارادہ فرمایا۔تو آپؐ نے انصار اورمہاجرین کو جمع کیا۔اور فرمایا۔اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب کیا کرنا چاہیے اس پر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یارسول صلی اللہ! مشورہ کا کیا سوال ہے؟ ہم لڑنے کے لئے حاضر ہیں مگر جب کوئی مہاجر بیٹھ جاتا آپ پھر فرماتے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔جب آپؐ نے بار بار یہ الفاظ دہرائے۔تو انصار سمجھ گئے کہ آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے۔چنانچہ ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوںنے عرض کیاکہ یارسول اللہ! آ پؐ کی مرا دشاید ہم انصارسے ہے۔آ پؐ نے فر ما یا۔ہا ں۔اُس نے کہا۔یا رسول اللہ! شا ید آ پ کا اشارہ اُس معا ہدہ کی طر ف ہے جو ہجر ت کے وقت ہم نے آ پ سے کیا تھا کہ مدینہ کے اندر رہ کر تو ہم دشمن کا مقابلہ کریںگے مگر مد ینہ سے با ہر آ پ کی حفا ظت کے ذمہ دار نہیں ہوںگے۔آ پؐ نے فرمایا۔تم ٹھیک سمجھے میرا اشارہ اسی طرف ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ! بیشک ہما را یہ معا ہدہ تھا کہ ہم مد ینہ سے باہر نہیں لڑ یں گے۔لیکن یا رسول اللہ! وہ ابتدائی زما نہ تھا۔اب خدا کا نورہم نے خود اترتے دیکھ لیا ہے۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آ پ میدا نِ جنگ میں جا ئیں اور ہم نہ جائیں۔ہم ان انصار کی طرف سے بھی جو علم نہ ہو نے کی وجہ سے مدینہ میں رہ گئے ہیں حضور کو یقین دلا تے ہیںکہ اگر وہ بھی یہا ں مو جو د ہو تے تو ضرور آ پ کے سا تھ جنگ میں شا مل ہو تے پھر اُس نے کہا۔یا رسول اللہ! اب معاہدات کاکیا سو ال ہے؟آ پ ہمیں حکم دیں کہ سمندر میں گھو ڑے ڈال دو تو ہم سمندر میں گھو ڑے ڈا لنے کےلئے بھی تیار ہیں اور اگر لڑائی ہو ئی تو یا رسول اللہ ہم آ پ کے دا ئیں بھی لڑیں گے اور با ئیں بھی لڑیں گے اور آ گے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور کو ئی شخص آ پ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔یہ فقرہ صحا بہ ؓ کو اس قدر پسند تھا کہ ایک صحا بی جو چو دہ یا اٹھا رہ جنگوں میںشریک ہو ئے کہا کر تے تھےکہ با وجو د اس کے کہ مجھے اتنی جنگوں میں شمو لیت کا فخر حا صل ہے میرے نز دیک اُس صحا بی کا یہ فقرہ میری سار ی لڑائیوں سے بہتر تھا۔کاش یہ میرے منہ سے نکلتا۔(بخاری کتاب المغازی باب قصّۃ غزوۃ بدر) غر ض ایک تو یہ قوم تھی جنہو ں نے بخو شی موت کو قبول کیا اور اس کے مطا بق اس سے سلو ک ہوا۔دو سری قوم حضرت موسٰی کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس سے زندگی کا وعدہ کیا اور اس نے وعدہ کے ایفاء کا لفظاً مطا لبہ کیا انہوں نے کہا