تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 396

تم ہم کو زندگی دینے کے وعدہ پر لائے تھے۔تم نے ہمیں با دشا ہت دینے کا وعدہ کیا تھا تم وہ ملک لے کر ہمیں دے دو۔ہم لڑ کر ملک لینے کے لئے تیا ر نہیں۔اس پر خدا تعالیٰ نے انہیں مو ت دےدی اور چالیس سال تک اس ملک سے محروم کر دیا مگر چو نکہ زندگی کا وعدہ بھی تھا اس لئے پھر زندگی بھی دےدی۔لیکن اس وقت جب کہ وہ نسل جس نے خود موت لینے سے انکا ر کر دیا تھا بیا با نوں میں ہلا ک ہو چکی تھی۔خدا تعالیٰ نے اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ کہنے والوںکے بچوں کو جنہوں نے یہ فقرہ نہیں کہا تھا۔اٹھا یا اور زندگی کا وعدہ ان کے زما نہ میں پورا کر دیا۔چنا نچہ ثُمَّ اَحْیَاھُمْ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔تیسری قسم کی قوم وہ ہو تی ہے جس سے کو ئی وعدہ نہیں ہو تا۔یہ قوم جب مو ت کے مونہہ میں آ تی ہے تو اس سے سلوک اس کی اپنی ہمّت کے مطا بق ہو تا ہے کبھی اپنی کو شش سے ایسی قوم بچ جا تی ہے اور کبھی ہلاک ہو جاتی ہے۔غرض اس آ یت میںاللہ تعالیٰ نے یہ ایک عجیب نکتہ بتا یا ہے کہ غلا م قوم اور مغلو ب لوگ کبھی زندگی نہیں پا سکتے جب تک کہ پہلے اپنے لئے مو ت کو اختیار نہ کر لیں۔وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ میں بھی یہ بتا یا کہ خدا تعالیٰ جو مجا ہدات بتا تا ہے وہ قومی ترقی کے لئے ضروری ہو تے ہیں مگر لو گ ان پر شور مچا دیتے ہیں کہ ہم مر گئے۔بو جھو ں میں دب گئے حا لا نکہ فا ئدہ ان کااپنا ہوتاہے۔وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۴۵ اور تم اللہ کی راہ میں جنگ کرو۔اور جان لو کہ اللہ بہت سننے والا (اور )جاننے والا ہے۔تفسیر۔فر ما تا ہے۔اے امّت محمدیہ تم اُ س قو م کی حا لت کو دیکھو جسے مو سیٰ علیہ السلام مصر سے اس لئے نکال کر لائے تھے کہ اسے ایک ملک کی حکومت حا صل ہو۔لیکن جب انہیں اپنے دشمنوں سے جو اُ ن کے ملک پر قابض تھے لڑنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے انکا ر کر دیا۔اس پر خدا تعالیٰ نے انہیں اس ملک کی حکو مت سے چالیس سا ل تک کے لئے محروم کر دیا اور وہ جنگلو ںمیں بھٹک بھٹک کر مر گئے۔غرض با وجو د اس کے کہ مو ت ان کو اپنے گھروں میں بھی آ نی تھی انہوں نے خداتعا لیٰ کی راہ میں موت کا پیا لہ پینے سے انکا ر کر دیا اور تبا ہ ہو گئے۔خدا تعالیٰ فرما تا ہے کہ تمہیں اس قوم کے حا لات سے عبرت حا صل کر نی چا ہیے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جہا د کر نے سے کبھی انکار نہیں کر نا چاہیے۔جو قوم موت سے ڈرتی ہے وہ دنیا میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتی کیو نکہ مو ت سے ڈرنا ہی اُسے موت