تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 394
یہ فر ق تھا جسے وہ سمجھ نہ سکے۔اگر وہ فر عون کا پیا لہ پی لیتے تو ہمیشہ کے لئےانہیں موت ملتی۔لیکن وہ خدا تعالیٰ کا پیا لہ پی لیتے تو وقتی مو ت ہو تی جس کے بعد ہمیشہ کے لئے انہیں زندگی مل جا تی۔مگر انہوں نے اس فر ق کو نہ سمجھا اور خدا تعالیٰ کا پیش کر دہ مو ت کا پیا لہ پینے سے بھی اسی طر ح انکا ر کر دیا جس طرح فر عون کا پیا لہ پینے سے انکا ر کیا تھا۔تب خدا تعالیٰ نے انہیں فر ما یا مُوْ تُوْ ا تم اپنے ہا تھ سے مو ت لینے سے انکا ر کرتے ہو۔اب ہم خود تمہیں مو ت دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فر عو ن کی دی ہو ئی مو ت اور اپنی دی ہو ئی مو ت میں فر ق رکھا۔وہ لو گ گھر سے تو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر اعتبار کر کے ہی نکلے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ عر صہ کی موت کے بعد انہیں پھر زندگی دے دی اور اس طر ح اس وعدہ کو پورا کر دیا۔یہ ایک چھوٹی سی آیت ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ نے قومی جدوجہد کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔دعا ئے ابرا ہیمی میں رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم کے چا ر کا م بتا ئے گئے تھے۔يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ(البقرۃ:۱۳۰) اوّل آ یا ت الٰہی سنانے کاکام۔دوم تعلیم کتاب کاکام۔سو م تعلیم حکمت کاکام۔چہارم تزکیہ نفوس کاکام۔یہ آ یت يُعَلِّمُهُمُ الْحِكْمَةَ کے ما تحت ہے۔یہا ں قومو ں کی تر قی کے ذرائع بیا ن کئے گئے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے اس جگہ مثا ل دے کر بتا یا ہے کہ قو میں کس طر ح تر قی کیاکرتی ہیں۔جب بھی کسی قوم کو مو ت کا ڈر ہو تو اس کا یہی علا ج ہے کہ یا تو وہ اپنے ہا تھ سے مو ت قبول کر ے یا خدا تعالیٰ کے ہا تھ سے مو ت قبول کر ے۔اپنے ہاتھ سے موت قبول کرنے میں کئی آسانیاں ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب تم اپنے ہاتھ سے ابتلاء لو تو تم اسے کم کر سکتے ہو۔جیسے سردی میں وضو کے لئے پانی کی ٹھنڈک کو تم دورکر سکتے ہو۔اسی طرح جنگ میں تم بخوشی موت قبول کرتے ہو لیکن تم اس سے بچائو کے لئے تلوار ہاتھ میں پکڑ لیتے ہو اور بدن پر زرہ پہن لیتے ہو تاکہ جہاں تک ہو سکے موت کے اثر کو کم کر دو۔اگر تم زخمی ہو تو علاج کر اسکتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کی دی ہوئی موت سے تم کوئی بچائو نہیں کر سکتے خدا تعالیٰ کا قانون کام کرتا چلا جاتا ہے۔اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس طرح تکلیف کم ہو گی یا زیادہ مثلاً ہیضہ یا طاعون کی وبائیں بلا لحاظ مارتی چلی جاتی ہیں لیکن تم خود ایک چیز کی تکلیف کو کم کر سکتے ہو۔مثلاً کانٹا چبھ جائے تو تم اسے اپنے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کرتے ہو۔کیونکہ دوسرے سے تمہیں یہ توقع نہیں ہو سکتی کہ وہ اس تکلیف کو کم کرنے کی ویسی ہی کوشش کرے گا جیسی تم کر سکتے ہو۔پس جب قوم کی موت آتی ہے۔تو اس کا علاج زندہ رہنا نہیں بلکہ موت قبول کرنا ہوتا ہے۔دنیا میں تین قسم کی قومیں ہوتی ہیں ایک تووہ جو موت کو خود قبول کر لیتی ہیں۔اور بعد میں انہیں ہمیشہ کے لئے