تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 393
وطن میں ہیں اور راستوں سے اچھی طرح وا قف ہیں۔ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا تعا قب کیسے کر یں وہ محفوظ قلعوں میںہیں اور ہم جنگلو ں میں۔تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں بادشا ہت دو گے اس لئے ہم توہا تھ نہیں اٹھائیں گے اور یہیںبیٹھے رہیں گے۔تم اور تمہا را خدا جاؤ اور ملک فتح کر کے ہمیں دے دو۔بظا ہر معلو م ہو تا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے انہوں نے لفظاً پو را نہیں کیا۔لیکن جب ہم اس وا قعہ کوایک اور نقطہ نگا ہ سے دیکھتے ہیں تو اس کی شکل ہی بدل جا تی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم نے مکہ کی فتح پر انصار سے مخا طب ہوکر فرما یا اے انصار! کیا تم نے یہ کہا ہے کہ خو ن تو ہما ری تلوا روں سے ٹپک رہا ہے اور مالِ غنیمت مہا جر ین میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے عرض کیا۔حضور! ہم میں سے ایک نوجوان نے نا دانی سے ایسا کہہ دیاہے۔آ پؐ نے فر ما یا۔تم کہہ سکتے ہو کہ محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) کو ہم نے بے درپا یا۔ہم نے اسے اپنے گھر میںجگہ دی۔اُس کے بھا ئی اُس کے خون کے پیا سے تھے۔ہم اس کے آ گے پیچھے لڑے۔دنیا میں اس کی بات کوئی نہ سنتا تھاہم نے لوگوں تک اس کا پیغا م پہنچا یا۔پھر جب فتح ہو ئی تو اس نے مال اپنی قوم میں تقسیم کر دیا اور ہمیں کچھ نہ دیا۔لیکن اگر تم چا ہو تو یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) نے ہمیں قربِ الہٰی حا صل کرا یا۔تقویٰ جیسی نعمت دی۔خدا تعالیٰ کی محبت دی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اسے فتح دی۔اور خدا ئی فوجوں نے مکہ فتح کیا۔مکہ اُس کاپیدا ئشی مقا م تھا اور مہا جر ین کا وطن۔انہیں تو قع تھی کہ مکہ فتح کرکے وہ اپنے گھروں پر قبضہ کر لیںگے مگر مکہ مکر مہ والے تو چند اونٹ لے گئے اور ہم اپنے سا تھ رسول اللہ کو لے آئے(بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف فی شوالٍ سنة ثمان)۔یہی دونو ںرُخ یہا ں ہیں۔اگر حکو مت کے رنگ میںکوئی تغیر خدا تعالیٰ کومنظور نہیں تھا اور وہ ایسی ہی حکو مت پسند کر تا جیسی فر عون کی تھی تو فر عون سے حکومت چھین کر بنی اسر ائیل کو کیوں دینا چا ہتا۔خدا تعالیٰ تو ایسی قوم کو با دشا ہت دینا چا ہتا تھا جو اخلا ق کی خو شنما حکو مت قا ئم کر تی۔خدا تعالیٰ بنی اسر ائیل کو ایسی زندگی نہیں دینا چا ہتا تھاجو ختم ہو جاتی۔ایسی زندگی تو چمار بھی دیتا ہے جبکہ وہ بچہ پیدا کرتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ انہیں ایسی زندگی دینا چاہتا تھا جو کو ئی اور نہیں دے سکتا تھا۔خدا تعالیٰ انہیں اخلا ق فا ضلہ کی ہمیشہ کی زندگی دینا چا ہتا تھاجوفر عون انہیں نہیں دے سکتا تھا۔اور ایسی زندگی بغیر تربیت اور قر با نی کی عا دت کے انہیں نہیں مل سکتی تھی۔خدا تعالیٰ انہیں اپنے تا زہ نشا نو ں کے سا تھ زندہ کر نا چا ہتا تھا تا ان میں سے ہر ایک دس دس کے مقا بل میں کھڑا ہو۔پھر خدا تعالیٰ ان کو فتح دیتا تو ایک زندہ نشان دیکھتے جس سےان کی اصلا ح ہوتی اور اس طر ح ان کو حقیقی زند گی ملتی گو یا پیا لے دونوں موت کے تھے۔لیکن فر عون کے پیا لہ میں شربت بھی مو ت کا تھا اور خدا تعالیٰ کے پیا لہ میں زند گی کا۔