تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 392
تو بائیں طرف یونانیوں سے۔تہذیب کے گہوارہ میں پلی ہوئی تین قوموں یونانیوں ، ایرانیوں اور مصریوں سے انہیں واسطہ پڑتا۔وہ تینوں کے طریق کار سے واقف تھے وہ خود بھی مہذب اور بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے تھے۔اور بنی اسرائیل سے قریباً دس گنا تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ جنگجو اور خونخوار قوم دکھا کر کہا کہ اس قوم کو مار دو پھر حکومت تمہارے ہاتھ آجائےگی۔بنی اسرائیل پر حیرت کا اظہار کرنا آسان ہے لیکن ذرا سوچو! تمہارا ایک دوست تمہاری دعوت کرے۔وقت مقررہ پر وہ تمہیں بلا کرلے جائے اور جب وہ بازار میں پہنچے تو ایک بڑے ہوٹل میں چلا جائے۔جہاں ہر ایک چیز پانچ چھ گنا قیمت پر ملتی ہو اور کہے کہ یہ ہوٹل ہے اس میں آپ آٹھ دس روپے خرچ کر کے کھانا کھا سکتے ہیں۔اور دوسری طرف ایک ایسا مکان بھی ہے جہاں سے کھانوں کی خوشبو آ رہی ہے۔آپ اس کے اندر گھس جائیں مالک مکان کا سر لٹھ سے پھوڑ دیں اور کھانا لے لیں اس جواب کو سن کر تمہاری کیا حالت ہوگی؟ تم اس کو ذلیل کرنے والا تمسخر خیال کرو گے اور اس دوست سے ناراض ہو جائو گے۔شاید تم میں سے جوشیلے ایسے دوست پر حملہ ہی کر بیٹھیں یہی حالت یہاں ہوئی۔سینکڑوں میل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اس وعدہ پر کہ وہاں انہیں بادشاہت ملے گی لائے۔مگر وہاں پہنچ کر انہیں کہہ دیا کہ کنعان پر قابض قوم کو مار دو۔اور ان سے حکومت چھین لو۔اس جہالت کو دیکھ کر جو بنی اسرائیل میں اس وقت پھیلی ہوئی تھی خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس جواب پر سر پیٹ لیا ہو گا۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھتے ہوںگے کہ تم نے وعدے کیا کئے تھے اور اب کہہ کیا رہے ہو؟ وہ کہتے ہوںگے کہ وہیںہمیںکیوں نہ کہہ دیا کہ فرعون کا سر اڑا دو۔اور اس سے حکومت چھین لو۔وہاں پر تو ہم یہ کر بھی سکتے تھے کیونکہ ہمارے آدمی فرعون کے گھروں میں کام کرتے تھے وزراء ہمارے واقف تھے اور کئی سہولتیں ہمیں میسر تھیں۔لیکن یہاں پر زبان اور ہے اس لئے ہم جاسوسی بھی تو نہیں کر سکتے۔وہ ذرائع ہمیں یہاں میسر نہیں ان لوگوں کو مارنا بھلا کونسا آسان کام تھا کہ تم ہمیں وہاں سے نکال لائے اور یہاں آکر کہہ دیا کہ ان کو مارو۔اور ملک پر قبضہ کرلو۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا لیکن خدا تعالیٰ انہیں نظر نہ آتا تھا۔ورنہ وہ اس سے ہی جھگڑا کرتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں نظر آتے تھے اس لیے انہی کو وہ مخاطب کرتے تھے اوربظاہر حالات انہوں نے شرافت سے ہی کام لیا۔ورنہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حملہ آور ہوتے۔کہ تم نے ہمارے ساتھ نعوذ باللّٰہ دھوکا کیا ہے۔بائیبل میں آتا ہے کہ وہ روئے پیٹے اور بچوں کی طرح روٹھ گئے۔(استثنا باب ۱ آیت ۲۶،۲۷) قر آ ن کریم فر ما تا ہے۔انہوں نے کہا۔اے مو سیٰ علیہ السلام! اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔(المآئدة :۲۵) ہما رے مدِّ مقا بل ایک تجر بہ کار اور جنگجو قوم ہے۔ان کے پاس اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے وہ اپنے