تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 391
بہت پیاری تھی ورنہ وہ اس ملک کو چھوڑتے ہی کیو ں؟مگر جب وہ وہاں پہنچے تو خدا تعالیٰ سے انہوں نے سوال کیا کہ وہ زندگی کہاں ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تم موت قبول کرو۔پھر زندہ ہو جائو گے۔وہ لوگ حیران ہوئے کہ یہ ہمیں کیا کہا جا رہا ہے کیونکہ جو پیالہ فرعون انہیںپلا رہا تھا وہی اﷲ تعالیٰ نے انہیں دیا فرعون نے فیصلہ کیا تھاکہ وہ مر جائیںمگر انہوں نے کہا ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ سے فریاد کریںگے لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے فریاد کی تو وہاں سے بھی ان کو یہی جواب ملا کہ مر جائو۔انہیں دونوں جگہوں سے موت ہی کا پیالہ ملا۔وہ حیران تھے کہ فرعون کو دوست سمجھیں یا خدا تعالیٰ کو دشمن۔فرعون انہیں زندہ کرنا چاہتا تھا یا خدا تعالیٰ انہیں مارنا چاہتا ہے کیونکہ دونوں پیالوں پر موت لکھی ہوئی تھی۔وہ گھبرائے۔ان میں سے کمزوروں نے کہا کہ ہم تو موت سے بچنے کے لئے آئے تھے اگر یہی پیالہ ہمیں پینا ہوتا تو وہیں کیوں نہ پی لیتے اتنی تکالیف برداشت کرنےکی کیا ضرورت تھی؟ ہم اس پیالہ کو پینے کے لیے تیار نہیں ہم سے دھوکا کیا گیا ہے اگر موت ہی ہمیں ملنی تھی تو کیوں ہم سے زندگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔اتنی امیدیں دلانےکے بعد ہمیں قوم میں کیوں شرمندہ کرایا؟ وہ ہنسیں گے کہ بیوقوف موت سے بھاگے تھے وہاں بھی موت ہی نصیب ہوئی۔وہ اس مشکل کو حل نہ کر سکے سوائے اس کے کہ ان میں سے کمزوروں نے کہا کہ ہم یہ پیالہ پینے کے لئے تیا ر نہیں۔عزت کی زندگی جس کا ہم سے وعدہ تھا وہ ہمیں دو۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی۔فرعون انہیںتباہ کرنا چاہتا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا تمہارے سب لڑکے مارے جائیں گے اور لازماً لڑکیا ں غیروں سے بیاہی جائیںگی اور تمہاری نسل مٹ جائےگی اورغیروں کی نسل جاری ہوجائےگی۔تم اس موت سے بچو اورذلّت کی زندگی برداشت نہ کرو۔خدا تعالیٰ نے بتایاہےکہ حیات کا پیالہ تمہارے لئے کنعان کی سرزمین میں تیار ہے چنانچہ انہوں نے گھر بار چھوڑا۔مال جو اٹھایا نہ گیاوہیں چھوڑا عزت سے ہاتھ دھوئے۔ایک باقاعدہ حکومت کاآرام کھویا۔وہ نکلے اور چل پڑے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہےوَ هُمْ اُلُوْفٌ وہ چند ہزار تھے۔جو اپنے گھروںسے نکلے۔ان میں بہت سی عورتیں اور بچے بھی ہوںگے۔عام طور پر صرف پانچواں حصہ بالغ مرد ہوتے ہیں پھر ان میں کچھ بوڑھے بھی ہوںگے۔متمدن اقوام میں چھ فیصدی مرد جنگ کے قابل ہوتے ہیں۔اور غیر متمدن قوموںمیںسولہ فیصدی۔اگر وہ پچاس ہزار بھی ہوں تو ان میں سے زیادہ سے زیادہ آٹھ ہزار لڑائی کے قابل مرد ہوںگے۔اور وہ بھی نا تجربہ کار۔پتھیرے بھلا کیا جانے کہ جنگ کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا لائو۔وہ ملک جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔اس پر ایک زبردست قوم کے لوگ جن کے چہرے خون سے بھرے ہوئے تھے۔جنہیں اگر دائیں طرف عرب کے جنگجوئوں سے مقابلہ کرنا پڑتا