تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 390

تمہاری ہلا کت کے بعد تمہیں اس لئے اٹھا یا کہ تم شکر گذار بنو۔میرے نزدیک اس آ یت میںنَرَى اللّٰهَ جَهْرَةًسے مراد اُن کا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ( المآ ئد ۃ: ۲۵) والا جملہ ہے۔اس کے بعد انہیں چا لیس سال کی سزا ملی۔جو صا عقہ تھی۔غرض اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ سے مراد بنی اسرا ئیل ہی ہیں جو فر عون کے متو اتر مظالم کا تختہ مشق بنے ہو ئے تھے اور ہلا کت کے گڑھے میں گر ے ہو ئے تھے۔ان کے لڑ کے مارے جا تے تھے اور قومی زندگی با لکل تبا ہ ہو چکی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کو ملک مصر سے بچا کرلا یا۔اور اس نے فلسطین کاان سے وعدہ کیا اور حکم دیاکہ دشمن سے لڑو اور فتح حا صل کر لو۔مگر وہ اپنی نا دا نی سے کہہ اُٹھے کہ يٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(المآئدۃ :۲۵) یعنی اے مو سٰی !جب تک وہ لوگ اس میں مو جو د ہیں ہم اُس سرزمین میں کبھی دا خل نہیں ہوںگے۔اس لئے تو اور تیرا ربّ دونو ں جا ؤ اور ان سے جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر مو ت نا زل کی۔یعنی وہ چا لیس سال تک اللہ تعالیٰ کی نا را ضگی کا مورد رہے۔اس کے بعد ان کی اگلی نسل جب جوان ہو ئی اور اس نے اللہ تعالیٰ کے منشا کے ما تحت قر با نیوں سے کا م لیا تو خدا تعالیٰ نے ان کو زندہ کر دیا۔یعنی کنعان کے دروازے ان کے لئے کھل گئے اور حکومت پر انہوں نے قبضہ کر لیا۔اسی کی طرف ثُمَّ اَحْیَا ھُمْ میں اشارہ کیا گیا ہے۔اور اسی کی طرف ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ میں اشارہ تھا۔فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا میں اس طرف بھی اشا رہ پا یا جا تا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے مو ت کے خوف سے نکلے اور انہوں نے چا ہا کہ وہ زندگی حا صل کریں تو ان کی اس خواہش کوپورا کر نے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو تدبیر بتا ئی وہ یہ تھی کہ تم اپنے لئے مو ت اختیار کر و۔ایک ایسی قوم جو مو ت سے بچنے کے لئے گھروں سے نکلی تھی۔اسے قدرتی طور پر یہ علاج بہت عجیب نظر آ یا۔وہ لو گ جنہوں نے اپنا وطن خواہ وہ اختیار کردہ ہی ہو۔املا ک خواہ تھوڑے ہی ہو ں۔اپنی عزت یا رتبہ خواہ قلیل ہی ہو۔اپنے جلیس اور ہم صحبت دوست اور وہ ملک جس کی وہ زبان سمجھتے تھے صرف اس لئے کہ انہیں زندگی ملے اور وہ مو ت سے بچ سکیں کُلی طور پر چھوڑدیا۔وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ایک ایسے ملک کی طرف چلے گئے جہا ں کی زبان وہ نہیں جانتے تھے جہا ں ان کی کو ئی جا ئیداد نہیں تھی۔جہا ں کے لو گ ان کی دیا نت سے اور یہ لو گ ان کی دیا نت سے واقف نہ تھے۔جہاں کے لوگوں کی نگا ہ میں ان کے چھوٹے بڑے میں کو ئی تمیز نہ تھی۔یہ قربا نی کوئی معمولی قربا نی نہ تھی۔یہ قربا نی صرف اس لئے کی گئی تھی کہ انہیں جان