تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 389

لئے خوراک کہاں سے لاتے تھے؟ پھر بائیبل سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک چشمہ سے پانی بھی پی لیتے تھے۔اب کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک ایک چشمہ سے پچیس لاکھ آدمی سیراب ہو سکتا ہے؟ دراصل اس بیان میں سخت مبالغہ سے کام لیا گیا ہے حقیقت وہی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے کہ بنی اسرائیل جو فرعون کے ظلم سے ڈر کر بھاگے تھے ان کی تعدادصرف چندہزارتھی۔ورنہ پچیس لاکھ یہودی فلسطین کے چھوٹے چھوٹے قبائل سے ڈر کس طرح سکتے تھے؟ فلسطین کی آبادی تو اپنی شان و شوکت کے زمانہ میں بھی ۲۵ - ۳۰ لاکھ سے زیادہ نہیں بڑھی۔بلکہ اس زمانہ میں بھی تقسیم سے پہلے اس کی آبادی اٹھارہ لاکھ کے قریب تھی۔پرانے زمانہ میں جبکہ خوراک ادھر ادھر پہنچانے کے سامان مفقود تھے غیر زرعی علاقوں میں بڑی آبادی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔پس موسیٰ ؑ کے وقت میں یقیناً سارے فلسطین کی آبادی چند ہزارافراد پر مشتمل ہو گی۔چنانچہ بنی اسرائیل اور ان کے دشمنوں کی لڑائیوں میں ہمیشہ سینکڑوں اور ہزاروں افراد کا ہی پتہ لگتا ہے۔اگر موسیٰ ؑ کے ساتھ ۲۵ لاکھ آدمی فلسطین میں آئے تھے تو سفر کا زمانہ تو الگ رہا حکومت کے زمانہ میں بھی ان کی خوراک کا انتظام نہ ہو سکتا تھا اور لڑائی کا تو ذکر ہی کیا ہے یہ لوگ تو اپنے کند ھوں کے دھکوں سے ہی ان چند ہزار افراد سے فلسطین کو خالی کرا سکتے تھے جو ان سے پہلے وہاں بس رہے تھے۔پس وَ هُمْ اُلُوْفٌ میں جن لو گوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ بنی اسرا ئیل ہی ہیں۔(مزید تفصیل کےلئے دیکھیں تفسیر کبیرسورۃ مریم تا انبیاءجلد ۷ تا ۸ ) چو تھی با ت اس آ یت میں یہ بیا ن کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ تم مر جا ؤ۔اس امر کا ذکر بھی قرآ ن کر یم نے ایک دوسری جگہ ان الفا ظ میں کیا ہے کہ قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً١ۚ يَتِيْهُوْنَ فِي الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ(المآ ئدۃ : ۲۷) یعنی جب مو سٰی کی نا فر ما نی کر تے ہو ئے بنی اسرا ئیل نے لڑائی کر نے سے انکا ر کر دیا تواللہ تعالیٰ نے فر ما یا کہ انہیں اب اس ملک سے چا لیس سال کے لئے محروم کر دیا گیا ہے۔وہ زمین میں سرگردان پھر تے رہیں گے پس تو با غی لو گو ں پر افسوس نہ کر۔پا نچویں با ت یہ بیا ن کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں موت کے بعد پھر زندہ کر دیا۔اسے اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ان الفا ظ میں بیا ن کیا ہے کہ وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۔ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔(البقرۃ: ۵۶,۵۷) یعنی اس وقت کو بھی یا د کر و جب تم نے کہا تھا کہ اے موسٰی! ہم تیری با ت ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو آ منے سا منے نہ دیکھ لیں۔اس پر تمہیں ایک مہلک عذاب نے پکڑ لیا اور تم اپنی آ نکھ سے اپنے فعل کا انجا م دیکھ رہے تھے۔پھر ہم نے