تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 35

رہا تھا۔اُس نے نماز توڑ دی اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور خدا کا نبی اُسے بلائے تو وہ نماز بھی توڑ سکتا ہے۔اِسی طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ ایسی حالت میں آواز دی جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے بھی نماز توڑ دی اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ استدلال قرآن کریم کی اس آیت سے کیا تھا کہ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ(الانفال: ۲۵) یعنی اے مومنو! تم اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے کےلئے فوراً حاضر ہو جایا کرو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے۔غرض نماز اصل مقصود نہیں اور نہ ہی روزہ اور حج اور زکوٰۃ وغیرہ مقصود ہیں۔یہ سب ذرائع ہیںخدا تعالیٰ تک پہنچنے کے اور یہ سب ذرائع ہیںنفس انسانی کو ہر قسم کی روحانی آلائشوں سے پاک کرنے کے۔اگر کسی کا دل پاک نہیں تو خواہ زبان سے وہ ہزار بار کتاب اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کر ے اس کا یہ دعویٰ ایک رائی کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتا۔تزکیہ کے بعد تعلیم کتاب اور حکمت میں بھی تعلیم کتاب کو اس لئے مقدم رکھا گیا ہے کہ اعلیٰ ایمان والا شخص صرف یہ دیکھتا ہے کہ آیا اُس کے محبوب نے فلاں کام کرنے کو کہا ہے یا نہیں۔اگر کہا ہو تو وہ بغیر سوچے سمجھے اس کام کو اختیار کر لیتا ہے۔لیکن جو اعلیٰ ایمان نہیں رکھتا وہ کہتا ہے کہ پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ اس کام کی غرض کیا ہے اور اس میں حکمت کیا ہے؟ جب تک مجھے اس کی حکمت نہ بتائی جائے گی میں عمل نہیں کرو ںگا۔غرض ایک سچے اور مخلص مومن کےلئے صرف یہی کافی ہوتا ہے کہ اُس کا ربّ اُسے حکم دے رہا ہے۔وہ خدا کی آواز سنتا اور اس کی طرف دوڑپڑتا ہے۔لیکن فلسفی حکمت کا سراغ لگاتا ہے اور جب تک اُس کا دماغ تسلی نہ پائے اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ایک ماں کو اس کے بچہ کی خدمت کےلئے اگر صرف دلائل دئیے جائیں اور کہا جائے کہ اگر تم خدمت نہیں کرو گی تو گھر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور یہ ہو گا اوروہ ہوگا تو یہ دلائل اُس پر ایک منٹ کےلئے بھی اثر انداز نہیں ہوسکتے۔وہ اگر خدمت کرتی ہے تو صرف اس جذبہ محبت کے ماتحت جو اس کے دل میں کام کر رہا ہوتا ہے۔اِسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایمان العجائز ہی انسان کو ٹھوکر وں سے بچاتا ہے۔ورنہ وہ لوگ جو حیل وحجت سے کام لیتے ہیںاور قدم قدم پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں حکم کیوں دیا گیا ہے اور فلاں کام کرنے کو کیوں کہا گیا ہے وہ بسا اوقات ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔اور اُن کا رہا سہا ایمان بھی ضائع ہو جاتا ہے۔لیکن کامل الایمان شخص اپنے ایمان کی بنیاد مشاہدہ پر رکھتا ہے۔وہ دوسروں کے دلائل کو توسن لیتا ہے مگر ان کے اعتراضات کا اثر قبول نہیں کرتا