تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 36

کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔منشی اروڑے خان ؓ صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے اُن کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے بعض لوگوں نے کہا کہ اگر تم مولوی ثناء اللہ صاحب کی ایک دفعہ تقریر سن لو تب تمہیں پتہ لگے کہ مرزا صاحب سچے ہیں یا نہیں؟ وہ کہنے لگے میں نے ایک دفعہ اُن کی تقریر سنی۔بعد میں لوگ مجھ سے پوچھنے لگے۔اب بتاؤ کیا اتنے دلائل کے بعد بھی مرزا صاحب کو سچا سمجھا جا سکتا ہے؟میں نے کہا میں نے تو مرزا صاحب کا مونہہ دیکھا ہوا ہے۔اُن کا مونہہ دیکھنے کے بعد اگر مولوی ثناء اللہ صاحب دو سال تک بھی میرے سامنے تقریر کرتے رہیں تب بھی اُن کی تقریر کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ جھوٹے کا مونہہ تھا۔بے شک مجھے اُن کے اعتراضات کے جواب میں کوئی بات نہ آئے میں تو یہی کہو ں گا کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں۔غرض حکمت کا معلوم ہونا ایک کامل مومن کےلئے ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اس کا ایمان عقل کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔اسی لئے اُسے احکام کی حکمت سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہاں جس کا ایمان صرف دلائل کی حد تک ہو اُسے حکمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔غرض ایمان کامل مشاہدہ کی بنا پر ہوتا ہے اور ایمان ناقص حکمت کی بنا پر۔کامل الایمان لوگوں کےلئے نبی کا تلاوت ِآیات اور تزکیہ ہی کافی ہوتا ہے۔اور آیات کی حکمت اور اس کی غرض معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔وہ نبی کی آواز کافی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کےلئے دیوانہ وار کام شروع کر دیتے ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرما رہے تھے کہ آپ ؐ نے دوران تقریر میں فرمایا۔بیٹھ جاؤ۔کیونکہ اُس وقت کناروں پر کئی لوگ کھڑے تھے۔اُس وقت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ گلی میں تھے اور مسجد کی طرف آرہے تھے جونہی یہ آواز آپ کے کان میں پہنچی آپ وہیں بیٹھ گئے اور پھر گھسٹتے گھسٹتے دروازہ کی طرف چل پڑے۔یہ اچنبھے کی بات تھی کسی نے انہیں بچوں کی طرح گھسٹتے دیکھ کر کہا۔آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا تو یہ تھا کہ اندر والے بیٹھ جائیں یہ مطلب تو نہیں تھا کہ گلی میں چلنے والے بھی بیٹھ جائیں۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔کہ اگر وہاں پہنچتے پہنچتے میری جان نکل جائے تو میں خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں گاکہ خدا تعالیٰ کے رسول کی طرف سے ایک آواز آئی تھی جس پر میں نے عمل نہ کیا۔(کنز العمال باب فی فضائل الصحابة۔۔۔۔۔۔)اب بظاہر یہ بات حکمت کے خلاف نظر آئے گی مگر عشق کا رنگ ہی اَور ہوتا ہے۔عاشق حکمتوں کو نہیں دیکھتابلکہ جو کچھ محبوب کہے اُسے ماننے کےلئے تیار ہو جاتا ہے۔تو یاد رکھنا چاہیے کہ حکمت تابع ہے تعلیم کے اور تعلیم تابع ہے تزکیہ کے اور تزکیہ تابع ہے آیات اللہ کے۔اصل خدا تعالیٰ کی ذات ہے پھر اُس کا مقام ہے جو خدا نما ہو۔پھر اُس سے اتر کر وہ ذرائع ہیںجو انسان کو خدا نما بنانے والے ہیں۔پھراُن سے اتر کر وہ