تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 34
واضح کرے۔اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرے۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے تلاوتِ آیات پھر تعلیم کتاب پھر تعلیم حکمت اور پھر تزکیہ کو رکھا تھا۔مگر یہاں پہلے تلاوت آیات پھر تزکیہ پھر تعلیم کتاب و حکمت کو بیان کیا گیا ہے۔پس طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ دعائے ابراہیمی کی ترتیب اس اصول پر مبنی ہے کہ دنیا میں جب بھی خدا تعالیٰ کا کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ تلاوت آیات سے کام لیتا ہے یعنی اس وحی کو پیش کرتا ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے۔اور اُن معجزات اور نشانات کو پیش کرتا ہے جو اُس کی تائید میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتے ہیںاس کے بعد آہستہ آہستہ احکام نازل ہوتے ہیں تو اُن احکام کی حکمتیں بیان کی جاتی ہیں اور آخر معجزات و نشانات دیکھنے، دلائل و براہین پر غور کرنے اوراُن کی حکمتوں کو سمجھ لینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کو ایک تقدس عطا فرماتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ دوسروں پر غالب آجاتی ہے۔مگر یہاں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری ترتیب کو مدِّ نظر رکھا ہے۔یعنی ایمانیات اور روحانیات سے تعلق رکھنے والی باتوں کو اس نے پہلے لے لیا ہے اور علوم ظاہری سے تعلق رکھنے والی باتوں کو بعد میں بیان کر دیا ہے۔تزکیہ چونکہ قلب سے تعلق رکھتا ہے اور تلاوت آیات بھی ایمان سے تعلق رکھتی ہے اس لئے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کو لے لیا جو ایمانیات اور روحانیات سے تعلق رکھتی ہیں۔چنانچہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ معرفت کے لحاظ سے سب سے پہلی چیز یہی ہے کہ انسان کو ایسی آنکھیں عطا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے نشانات کا مشاہدہ کرنے والی ہوں۔اور دوسری چیز یہ ہے کہ ان نشانات کا مشاہدہ اُس کے اندر ایسا تزکیہ پیدا کر دے کہ اس کا دل خدا تعالیٰ کا عرش بن جائے۔اور صفات الٰہیہ اس کے آئینہ قلب میں منعکس ہو جائیں۔جب معرفت کا نور انسانی قلب کو ایسا جلا بخشتا ہے کہ اُس میں کوئی نفسانی کدورت اور آلائش باقی نہیں رہتی تو اس وقت وہ خدا کی صفات کا مظہر ہو جاتا ہے اور یہی انسانی زندگی کا اصل مقصد ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں تلاوت آیات کے بعد تزکیہ نفوس کو دوسرے امور پر مقدم رکھا ہے۔تزکیہ کے بعد تعلیم کتاب اور حکمت کا ذکر فرمایا ہے۔جو ظاہری علوم سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں اور ا نہیں آخر میں رکھ کراس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ وغیرہ احکام اور اُن کی حکمتیں اصل مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود تزکیہ نفس اور اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگراللہ تعالیٰ کانبی کسی شخص کو آواز دے اور وہ جسے بلایا گیا ہو اُس وقت نماز بھی پڑھ رہا ہو تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اُسی وقت نماز توڑ دے اور خدا تعالیٰ کے نبی کی خدمت میں حاضر ہو جائے کیونکہ وہ صفات الٰہیہ کا کامل مظہر ہوتا ہے اور اس کی آواز گویا خدا کی آواز ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شخص کو آواز دی۔وہ اس وقت نماز پڑھ