تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 378

اُس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی۔جس طرح ہمارے ملک میں ایک بے تکلّف نوکر ساتھ جاتی ہے تاکہ اُسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔چونکہ یہ عورت حسین مشہور تھی اوریو ں بھی عورتوں کو دلہن دیکھنے کا شوق ہوتا ہے مدینہ کی عورتیں اس کو دیکھنے گئیں اور اس عورت کے بیان کے مطابق کسی عورت نے اُس کو سکھا دیا کہ رُعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تیرے پاس آئیں تو کہہ دیجیئوکہ میں آپ سے اللہ کی پنا ہ مانگتی ہوں، اِس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہو ئی نہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو۔غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔احادیث میں لکھا ہے۔کہ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْھَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ھِــبِیْ نَفْسَکِ ِلِیْ قَالَتْ وَ ھَلْ تَھَبُ الْمَلِکَۃُ نَفْسَھَا لِلسُّوْقَۃِ ؟ قَالَ فَاَھْوٰی بِیَدِہٖ یَضَعُ یَدَہٗ عَلَیْھَا لِتَسْکُنَ فَقَالَتْ اَعُوْذُ بِاللّہِ مِنْکَ فَقَالَ قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ۔ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَافَقَالَ یَا اَبَا اُسَیْدٍ اُکْسُھَا رَازِ قِیَّیْنِ وَاَلْحِقْھَا بِاَھْلِھَا(بخاری کتاب الطلاق باب من طلق و ھل یواجہ الرجل امرأتہ بالطّلاق)جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اُسے فرمایاکہ تو اپنا نفس مجھے ہبہ کر دے اُس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ بھی اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کیا کرتی ہے؟ ابو اُسید کہتے ہیں کہ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اِس خیال سے کہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرا رہی ہے اُسے تسلی دینے کے لئے اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔آپ نے اپنا ہاتھ ابھی رکھاہی تھا کہ اُس نے یہ نہایت ہی گندہ اور نامعقول فقرہ کہہ دیاکہ میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔چونکہ نبی خدا تعالیٰ کا نام سُن کر ادب کی رُوح سے بھر جاتا ہے اور اُس کی عظمت کا متوالا ہوتا ہے۔اُس کے اِس فقرہ پر آپ نے فوراً فرمایا کہ تو نے ایک بڑی ہستی کا واسطہ دیا ہے اور اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا پناہ دینے والا ہے اس لئے میں تیری درخواست کو قبول کرتاہوں۔چنانچہ آپ اُسی وقت باہر تشریف لے آئے اور فرمایا۔اے ابا اسیدؓ! اِسے دو چادریں دے دو اور اسے اِس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔چنانچہ اس کے بعد اُسے مہر کے حصہ کے علاوہ بطور احسان دو رازقی چادریں دینے کا آپ نے حکم دیا تا کہ قرآن کریم کا حکم وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ پورا ہو۔جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو بلا صحبت طلاق دے دی جائے اور آپ نے اُسے رخصت کردیا اور ابو اسیدؓ ہی اُس کو اُس کے گھر پہنچا آئے۔اُس کے قبیلہ کے لوگوں پر یہ با ت نہایت شاق گذری اور انہوں نے اُس کو ملامت کی مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بد بختی ہے اور بعض دفعہ اُس نے یہ بھی کہا کہ مجھے ورغلایا گیا تھااور کہا گیا تھا کہ جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ و سلم تیرے پاس آئیں تو تم پرے ہٹ