تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 377

ہونے کا ذکر نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کی کُتب کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے۔ورنہ یہودیوں اور عیسائیوں کو کیوں غصّہ آتا۔اگر قرآن کریم کی آیات منسوخ ہو گئی تھیں تو اس پر انہیں کیوں غصہ آتا۔ان کی دشمنی صاف بتا رہی ہے کہ چونکہ قرآن کریم نے ان کی کتابوں کو منسوخ کر دیا تھا۔اس لئے وہ ناراض ہو گئے۔پس پہلی آیت میں قرآن کریم کے نسخ کا ذکر نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کی کتابوں کے منسوخ کئے جانے کاہی ذکر ہے۔اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـَٔلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرنا چاہتے ہو جس طرح (اس سے) پہلے موسیٰ ؑسے سوال کئے گئے تھے مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ اور (بھول جاتے ہو کہ) جو شخص کفر کو ایمان سے بدل لے تو سمجھو کہ وہ سیدھے سَوَآءَ السَّبِيْلِ۰۰۱۰۹ راستے سے بھٹک گیا۔حلّ لُغات۔تَبَدَّ لَ۔یہ باب تَفَعُّل سے ہے۔اور باب تَفَعُّل کا یہ خاصہ ہے کہ اس میں کسی چیز کو اختیار کرلینے کے معنے ہوتے ہیں اس لئے مَنْ یَّتَبَدَّلْ کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی ایمان چھوڑ کر اس کے بدلہ میں کفر لے لیتا ہے۔(اقرب) ضَلَّ۔دو طریق پر استعمال ہوتا ہے (۱) ضَلَّ الطَّرِیْقَ(۲) ضَلَّ عَنِ الطَّرِیْقِ۔اسے راستہ نہ ملا۔یا بھول گیا(اقرب) اسی طرح ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ اور ضَلَّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیْلِ آتا ہے۔سَوَآءَ کے معنے ہیں سیدھا اور مستقیم جس میں کوئی کجی نہ ہو۔پس معنے یہ ہوئے کہ درست یا صحیح راستہ سے جس میں کوئی کجی نہ ہو وہ گمراہ ہو گئے یا اُسے بھول گئے۔(المنجد) تفسیر۔نادان عیسائی مصنف اعتراض کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نعوذ باللہ اپنی کم علمی چھپانے کے لئے صحابہؓ کو سوال کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔لیکن قرآن کریم کی یہ آیت بتاتی ہے کہ صحابہؓ کو سوال کرنے سے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں جیسے سوال کرنے سے روکا گیا تھا۔