تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 379
جانا۔اور نفرت کا اظہار کرنا اس طرح اُن پر تمہارارعب قائم ہو جائےگا۔معلوم نہیں یہ وجہ ہوئی یا کوئی اور بہر حال اُس نے نفرت کا اظہارکیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم اس سے علیحدہ ہوگئے اور اُسے رخصت کر دیا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مَسّ سے مراد صرف چھونا نہیں بلکہ مخصوص تعلقات کا قائم ہوجانا ہے۔ورنہ لغوی معنوں کے لحاظ سے تورسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اُس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور آپ اُسے چھو چکے تھے۔اِلَّاۤ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ کے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے کہبِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِسے کون مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں اس سے خاوند مراد ہے (کشاف) کیونکہ نکاح ہو جانے کے بعد اُس کی گرہ خاوند کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس صورت میں خاوند کا عفو کرنا یہ ہوگا کہ وہ نصف مہر کی بجائے سارا مہر دےدے لیکن بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد عورت کے ولی ہیں (کشاف) اور ان کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اگر چاہیںتونصف مہربھی نہ لیں۔اُن کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ اِس طرح ہوتی ہے کہ کسی عورت کا نکاح اُس وقت تک نہیں ہو سکتاجب تک کہ اس کے ولی اجازت نہ دیں۔بعض لوگوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس سے خاوند مراد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اس نے تو مہر دینا ہے اور دینے کو معاف کرنا نہیں کہتے(رازی )۔لیکن ان کا یہ اعتراض عربی زبان سے نا واقفیت پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ عفوکے معنے زیادہ دینے کے بھی ہوتے ہیںچنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں عَفَا فُلَانُ الشَّعْرَ (لسان)اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ فلاں شخص نے بال بڑھالئے ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے اِعْفُو اللُّحٰی (مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ) اور اس کے معنے ہیں۔ڈاڑھیا ں بڑھاؤ۔پھر عرب کے رسم ورواج سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مہر پہلے دے دیا کرتے تھے۔پس خاوند کاعفو کرنا یہ ہوگاکہ وہ باقی نصف واپس نہ لے۔اس لحاظ سے اس کے معنے یہ ہوئے کہ طلاق دیتے وقت یا تو کچھ بڑھا کر دویا یہ کہ آدھا جو تم دے چکے ہو وہ بھی واپس نہ لو۔اور پہلے لوگ یہ دونوں معنے مراد لیتے آئے ہیں۔چنانچہ قاضی شریح کہتے ہیں اَنَا اَعْفُوْاعَنْ مُھُوْر بَنِیْ مُرَّۃَ وَ اِنْ کَرِھْنَ کہ میں اپنی قوم بنی مرّہ کی عورتوں کا مہر معاف کردوںگا۔اگرچہ وہ نا پسند ہی کرتی رہیں۔(بحر محیط زیر آیت ھذا)دراصل یہاں عورت کی کراہت یا عدمِ کراہت کا کوئی سوال نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر عورت اس قابل نہ ہو کہ معاف کر سکے، مثلاً ایسی بالغ نہ ہو جس کو مال پر تصّرف حاصل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اگر ولی عفو کا اعلا ن کر دے تو یہ عورت کا ہی اعلان سمجھا جائےگا۔اس کے متعلق عورت سے الگ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اسی طرح جبیربن مطعم ایک صحابی ہیں۔اُن کا ایک عورت سے نکاح ہوا جب انہوں نے اسے طلاق دی تو جو