تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 355

وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْامِمَّااٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْئًا۔تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اگر کوئی مال یا جائیداد تم انہیں دے چکے ہو تو طلاق کے بعد ان سے واپس لے لو۔یہ آیت بالصراحت بتاتی ہے کہ طلاق کے بعد عورت سے زیورات اور پارچات وغیرہ واپس نہیں لئے جا سکتے۔نہ مال واپس لیا جا سکتا ہے۔نہ کوئی جائداد جو اسے دی جا چکی ہو واپس لی جا سکتی ہے بلکہ مرد اگرمہر ادا نہ کر چکا ہو تو طلاق کی صورت میں وہ مہر بھی اسے ادا کرنا پڑےگا۔لیکن اسکے بعد ایک استثنیٰ رکھا ہے اورکہا ہے کہ اگر وہ صورت پیدا ہو تو پھر جائز ہے۔چنانچہ فرمایا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ۔سوائے اس کے کہ ان دونوں کو خوف ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے یعنی مرد عورت کے حقوق ادا نہ کر سکے گا۔اورعورت مرد کے حقوق ادا نہ کر سکے گی۔اس صورت میں اس کا حکم اور ہے۔جو فَاِنْ خِفْتُمْ سے شروع ہوتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ۔یعنی اس صورت میں اگر تمہاری رائے بھی یہی ہو کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں گے یعنی قضا نے بھی دیکھ لیا کہ فی الواقعہ دونوں کا قصور ہے صرف مرد ہی کا قصور نہیں ہے۔بلکہ عورت بھی قصور وار ہے تو اس صورت میں اگر عورت سے کچھ دلوا کر ان میں جدائی کروا دی جائے جسے اصطلاحاً خلع کہتے ہیں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔یہ ایک عجیب با ت ہے کہ اس آ یت میں تَاْخُذُوْا کی ضمیر اور طر ف گئی ہے اورخِفْتُمْ کی ضمیر اورطرف حا لا نکہ جملہ ایک ہی ہے۔یعنی تَاْخُذُوْا سے مرا د خا وند ہیں۔اور خِفْتُمْ سے مراد محکمہ قضا ء سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں (رازی)۔اسے اصطلا ح میں انتشار ضما ئر کہتے ہیں۔اورنحوی اسے جا ئز قرا ر دیتے ہیں۔غر ض فَاِنْ خِفْتُمْ میں بتا یا کہ اگر حکا م اس با ت کا فیصلہ کر یں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔عو رت راضی نہیں اور اس کی نا رضا مندی کی وجہ سے مر د بھی عدل نہ رکھ سکے گا تو عو رت اگر کچھ دینا چا ہے تو مرد کو اجا زت ہے کہ لےکراسے طلا ق دے دے۔چنا نچہ اس کے متعلق احا دیث میں رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نہ کے ایک وا قعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔جس سے اس مسئلہ پر روشنی پڑ تی ہے۔ابن ما جہ اور نسا ئی میں آ تا ہے کہ ثابت بن قیس بن شما س کی بیوی( یعنی عبد اللہ بن ابَیّ بن سلول کی بیٹی) رسول کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہو ئی۔اور اس نے عر ض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اپنے خا وند سے اس قدر نفر ت ہے کہ اگر وہ مجھ سے حسن سلو ک بھی کر ے۔تب بھی میں اس کی طر ف تو جہ نہیں کر سکتی اور سو ائے اس نفر ت کے مجھے اس سے اور کو ئی شکا یت نہیں۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خا وند کو بلا یا۔اور اس سے دریافت فر ما یا کہ تم نے اسے کچھ دیا ہوا ہے اس نے عرض کیا کہ ایک با غ ہے جو میں نے اسے دیا ہوا ہے۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو فر ما یا اَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِ یْقَتَہٗ کہ کیا تو اس کا با غ اسے وا پس کر سکتی ہے؟ قَا لَتْ