تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 356

نَعَمْ اس نے کہا ہاں! یا رسول اللہ!میں با غ وا پس کر دوںگی۔فَاَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنْ یَّاْ خُذَ الْحَدِ یْقَۃَ وَلَا یَزِ یْدَ عَلَیْھَا (ابن ماجہ باب الطلاق باب المختلعۃ تأخذ ما اعطاھا۔۔۔نسائی کتاب الطلاق باب ما جاء فی الخلع) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اس سے اپنا با غ واپس لے لے اور اس سے زیا دہ کچھ نہ لے۔دوسر ی روایت میں ذکر آ تا ہے کہ اس عورت نے کہا یا رسو ل اللہ !میں تو زیا دہ دینے کے لئے بھی تیا ر ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فر ما یا۔اَمَّا الزِّیَا دَۃُ فَلَا۔کہ زیا دہ ہر گز نہیں۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہ حبیبہؔ بنت سہیل کا وا قعہ ہے۔بہر حا ل رسو ل کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ با غ اس سے وا پس کروا دیا اور عورت کو طلا ق دلوا دی اور مر د کو اس سے زیا دہ لینے کی اجازت نہ دی۔اس سے معلو م ہوا کہ صرف خا وند کاما ل اسے واپس دلوا یا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔اس جگہ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا دو وجو ہ کی بنا پر کہاگیا ہے۔اوّل اس لئے کہ اس سے پہلے لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاخُذُ وْامِمَّا اٰتَیْتُمُوْ ھُنَّ شَیْئًا فر ما کر عو رت سے ما ل لینا گنا ہ قرار دیا تھا۔پس چو نکہ یہ شبہ پڑتا تھا کہ کہیں اس صورت میں بھی ما ل لینا گنا ہ نہ ہو۔اس لئے فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فرما کر اس شک کو دور کر دیا اور بتلا دیا کہ اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں۔دوسرے فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَااس لئےفر ما یا کہ عور ت کا کچھ دےکر مرد سے آزاد ہونااس کے جدا ئی کے شو ق پر دلا لت کر تا ہے اور یہ گنا ہ ہے۔جیسا کہ ابن جر یر نے ثوبا ن سے روا یت کی ہے کہ رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اَيُّ مَا امْرَ أَۃٍ سَأَ لَتْ زَوْجَھَا الطَّلَا قَ مِنْ غَیْرِ بَأْ سٍ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْھَا رَائِـحَۃَ الْجَنَّۃِ (تفسیر طبری زیر آیت ھٰذا ) یعنی جو عورت بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے خا وند سے طلاق ما نگے۔اس پر جنت کی خوشبو حرا م ہے۔سو فر ما یا کہ اگر کو ئی حقیقی مجبو ری پیش آجا ئے تو اس صورت میں اس کی درخواست تفریق موجب گناہ نہیں ہوگی اسی طرح مرد کا عورت سے کچھ روپیہ لے کر چھو ڑنا اس کے لا لچ پر دلا لت کر تا ہے اور یہ بھی گنا ہ ہے۔پس چو نکہ دونوں طرف گنا ہ کا شبہ ہو سکتا تھا۔اس لئے بتا یا کہ قا ضی کی تحقیق کے بعد اس طر یق پر جدا ئی منا سب سمجھی جائے اور ایک تیسرا شخص فیصلہ کر دے کہ یہی طر یق منا سب ہے تو پھر دونوں کو کو ئی گنا ہ نہیں ہو گا۔تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا۔فر ماتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کر دہ حد یں ہیں اور تمہا را فرض ہے کہ تم ان حدود سے اپنا قد م باہر مت رکھو۔مگر افسوس ہے کہ مسلما نوں نے اس حکم کی یہا ں تک خلا ف ورزی کی کہ انہو ں نے کہہ دیا کہ اگر ایک مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں بھی دے دی جا ئیں۔تب بھی طلا ق بتّہ وا قع ہو جا تی ہے۔حا لا نکہ یہ سوا ل خو د رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں پیش ہوا اور آ پ سے پو چھا گیا کہ کیا یہ ایک ہی طلا ق سمجھی