تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 354

َلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ بالکل واضح ہیں اور اس سے پہلی آیت وَ الْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا۔واضح کرتی ہے کہ زمانہ طلاق تین قروء تک جاتا ہے اس عرصہ میں انسان بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ کے چند آیات بعد کی آیت وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ(البقرة:۲۳۳)بتاتی ہے۔کہ طلاق کی مدت گذر جانے کے بعد خاوند دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔درمیانی آیت اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ اس پہلی قسم کی طلاق کی طرف اشارہ کرتی ہے اورپہلی قسم کی طلاق یہی ہے کہ تین قروء تک رجوع جائز ہے اور تین قروء کے بعد نکاح جائز ہے۔غرض آیت اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ بتاتی ہے کہ ایسی طلاق دو دفعہ ہو سکتی ہے جس کے صاف معنے یہ ہیںکہ طلاق کے بعد عدت گذر جانے کی صورت میں خاوند کو دو دفعہ دوبارہ نکاح کا حق حاصل ہے۔ایسے دو واقعات کے بعد اگر پھر انسان طلاق دےدے تو اس کو نکاح کا حق حاصل نہیں رہتا بلکہ اسے عرصہ مدت میں رجوع کا بھی حق حاصل نہیں۔پھر یہ حق اس کو تبھی حاصل ہو گا جبکہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح کرے اور وہ مرد اس کو کسی وجہ سے طلاق دےدے۔فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ میں بتایا کہ ان دو طلاقوں کے بعد یا تو عورت کو معروف طریق کے مطابق اپنے گھروں میں بسا لو اوریا پھر حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کر دو۔تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بھی ایک تشریح احادیث میں بیان کی گئی ہے۔چنانچہ ابنِؔ ابی حاتم نے ابی رزین سے روایت کی ہے کہ جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲ ! اَرَءَیْتَ قَوْلَ ﷲِ الطَّلَاقُ مَرَّتَان فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاَحْسَانٍ اَیْنَ الثَالِثَۃُ قَالَ التَّسْرِیْحُ بِاَحْسَانٍ۔یعنی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا۔اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! دو طلاقیں توقرآن میں بیان ہوئی ہیں۔تیسری کہاں سے آئی ؟ آپ نے فرمایا۔اَوْتَسْرِیْـحٌ بِاِحْسَانٍ جو آیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تَسْرِیْـحٌ بِاِحْسَانٍ کو آپ نے تیسری طلاق قرار دیا ہے(تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم سورۃ البقرۃ زیر آیت ھٰذا)۔اس جگہ احسان کا لفظ رکھ کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ عورت کو رخصت کرتے وقت اس کے ساتھ احسان کامعاملہ کرنا چاہیے۔مثلاً اس کے حق سے زائد مال اسے دےدیا جائے اور اسے عزت کے ساتھ روانہ کیا جائے۔بعض صحابہ ؓ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے اپنی بیویوں کوطلاق دی تو انہیں دس دس ہزار روپیہ تک دے دیا۔پھر فرمایا