تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 350
وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کی تفسیر لوگوں کے اچھی طر ح ذہن نشین کی۔آ پ کے کلا م میں عو رتو ں کے ساتھ حسن سلو ک اور ان کے حقو ق اور ان کی قا بلیتوں کے متعلق جس قدر ارشا دا ت پا ئے جا تے ہیں ان کا دسواں حصّہ بھی کسی اور مذہبی پیشوا کی تعلیم میں نہیں ملتا۔آ ج سا ری دنیا میں یہ شو ر مچ رہا ہے کہ عو رتوں کوان کے حقوق دینے چاہئیں اور بعض مغر ب زدہ نو جوا ن تو یہا ں تک کہہ دیتے ہیں کہ عو رتوں کو حقوق عیسا ئیت نے ہی دئیے ہیں حا لا نکہ عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اسلا م نے جو وسیع تعلیم دی ہے عیسا ئیت کی تعلیم اس کے پا سنگ بھی نہیں۔عر بو ں میں رواج تھا کہ ورثہ میں اپنی ما ؤں کو بھی تقسیم کر لیتے تھے۔مگر اسلام نے خو د عو رت کو وا رث قرا ر دیا۔بیوی کو خا وند کا۔بہن کو با پ کا اور بعض صورتوں میں بہن کو بھا ئی کا بھی۔غرض فر ما یا وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ یعنی انسانی حقوق کا جہا ں تک سوا ل ہے عورتوںکو بھی ویسا ہی حق حاصل ہے جیسے مر دوں کو۔ان دونوں میں کو ئی فر ق نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں اور عو رتو ں کو یکساں احکا م دئیے ہیں اسی طر ح انعا ما ت میں بھی انہیں یکسا ں شر یک قرار دیا ہے۔اور جن نعما ء کے مر د مستحق ہوںگےاسلا می تعلیم کے ما تحت قیا مت کے دن وہی انعا ما ت عو رتوں کو بھی ملیں گے۔غر ض اللہ تعالیٰ نے نہ اس دنیا میں ان کی کوئی حق تلفی کی ہے اور نہ اگلے جہان میں انہیں کسی انعام سے محروم رکھاہے۔ہاں آپ نے اس بات کا بھی اعلان فرمایا کہ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ یعنی حقوق کے لحاظ سے تو مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں لیکن انتظامی لحاظ سے مردوں کو عورتوں پر ایک حقِ فوقیت حاصل ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک مجسٹریٹ انسان ہونے کے لحاظ سے تو عام انسانوں جیسے حقوق رکھتا ہے اور جس طرح ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کو بھی ظلم اور تعدّی کی اجازت نہیں اُسی طرح مجسٹریٹ کو بھی نہیں۔مگر پھر بھی وہ بحیثیت مجسٹریٹ اپنے ماتحتوں پر فوقیت رکھتاہے۔اور اُسے قانون کے مطابق دوسروں کو سزا دینے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔اِسی طرح تمدنی اور مذہبی معاملات میں مرد و عورت دونوں کے حقوق برابر ہیں۔لیکن مردوں کو اللہ تعالیٰ نے قوّام ہونے کی وجہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے لیکن دوسری طرف اس نے عورتوں کو استمالتِ قلب کی ایسی طاقت دےدی ہے جس کی وجہ سے وہ بسا اوقات مردوں پر غالب آجاتی ہیں۔بنگالہ کی جادوگر عورتیں تو جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے مردوں پر جادو سا کر دیتی ہیں۔پس جہاں مرد کو عورت پر ایک رنگ میں فوقیت دی گئی ہے۔وہاں عورت کو استمالتِ قلب کی طاقت عطا فرما کرمرد پر غلبہ دے دیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے بسا اوقات عورتیں مردوں پر اس طرح حکومت کرتی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کاروبار انہیں کے ہاتھ میں ہے۔دراصل ہر شخص کی الگ الگ رنگ کی حکومت ہوتی ہے۔جہاں تک احکام شرعی اور نظام کے قیام کا