تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 349
وَ لَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْۤ اَرْحَامِهِنَّ میں عو رت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ حا ملہ ہو تو مرد کو بتا دے۔کیو نکہ بسا اوقا ت ایسا ہو تا ہے کہ اگر عو رت حا ملہ ہو تو اس کی وجہ سے پھرآپس میں محبت قا ئم ہو جا تی ہے اور میا ں بیو ی میں صلح کی صو رت پیدا ہو جا تی ہے۔وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ میں ذٰلِکَ کا اشا رہ مدت تر بُّص کی طر ف ہے۔اوراللہ تعالیٰ نے بتا یا ہے کہ اگر عدت کے دوران خا وند اپنی عورت سے دوبا رہ تعلقا ت قا ئم کرنا چا ہے تو اس میں کسی کو روک نہیں بننا چا ہیے۔اس ہدا یت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عا م طور پر عو رت کے رشتہ دار کہہ دیا کر تے ہیں کہ چو نکہ خا وند نے اپنی بیوی سے اچھا سلوک نہیں کیا اور اسے ایک دفعہ طلا ق دے دی ہے اس لئے اب ہم اس سے تعلق قا ئم رکھنے کے لئے تیا ر نہیں۔اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ عو رت کے رشتہ داروں کو میا ںبیوی کے تعلقا ت میں روک نہیں بننا چا ہیے۔اگر خاوند اپنی غلطی کو محسو س کر تے ہوئے رجو ع کر ناچاہتا ہے تو وہ کسی اور کی نسبت اس عو رت کا زیا دہ حق دار ہے اور وہ عدّت میں اپنی عو رت کو وا پس لوٹا سکتا ہے۔پھر وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ میں عا م قا نو ن بتا یا کہ مر دوں اور عو رتو ں کے حقوق بحیثیت انسان ہونے کے بر ا بر ہیں جس طرح عو رتو ں کے لئے ضر وری ہے کہ وہ مر دوں کے حقو ق کا خیا ل رکھیں اسی طر ح مر دوں کے لئے بھی ضر و ری ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق ادا کر یںاور اس بارہ میں کسی قسم کا ناواجب پہلو اختیار نہ کریں۔رسو ل کر یم صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے پہلے عو رتوں کے کو ئی حقو ق تسلیم ہی نہیں کئے جا تے تھے بلکہ انہیں مالوں اور جا ئیدادوں کی طر ح ایک منتقل ہونے والا ورثہ خیا ل کیا جا تا تھا۔اور اُن کی پیدا ئش کو صر ف مر د کی خو شی کا مو جب قرا ر دیا جا تا تھا حتّٰی کہ مسیحی جو اپنے آ پ کو حقو قِ نِسوا ں کے بڑے حا می کہتے ہیں اُن کے پا ک نوشتوں میں بھی عورت کی نسبت لکھا تھا۔’’البتہ مرد کو اپنا سرڈھا نکنا نہ چا ہیے کیو نکہ وہ خدا کی صو رت اور اُس کا جلا ل ہے مگر عورت مردکا جلا ل ہے۔‘‘ (کر نتھیوں باب ۱۱ آ یت۷) اسی طر ح لکھا تھا۔’’ اور میں اجا زت نہیں دیتا کہ عو رت سکھا ئے‘‘ (تمطا ؤس با ب ۲آ یت ۱۲) صر ف اسلا م ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں عو رتوں کی انسا نیت کو نما یا ں کر کے دکھا یا۔اور رسول کر یم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہی وہ پہلے انسا ن ہیں جنہو ں نے عو رتوں کے بلحاظ انسا نیت بر ابر کے حقوق قا ئم کئے۔اور