تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 351
سوال ہے۔اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت دے دی ہے مثلاًشریعت کا یہ حکم ہے کہ کوئی لڑکی اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر شادی نہیںکر سکتی(بخاری کتاب النکاح باب من قال لا نکاح الا بولیّ)۔یہ حکم ایسا ہے جو اپنے اندر بہت بڑےفوائد رکھتا ہے۔یورپ میں ہزاروں مثالیںایسی پائی جاتی ہیںکہ بعض لوگ دھوکے باز اور فریبی تھے مگر اس وجہ سے کہ وہ خوش و ضع نوجوان تھے انہوں نے بڑے بڑے گھرانوں کی لڑکیوں سے شادیاں کر لیں اور بعد میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوئیں۔لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ رشتہ کی تجویز کے وقت باپ غور کرتا ہے والدہ غور کرتی ہے۔بھائی سوچتے ہیں۔رشتہ دار تحقیق کرتے ہیں اور اس طرح جو بات طے ہوتی ہے وہ بالعموم ان نقائص سے پاک ہوتی ہے جو یورپ میں نظر آتے ہیں۔یورپ میں تو یہ نقص اس قدر زیادہ ہے کہ جرمنی کے سابق شہنشاہ کی بہن نے اسی ناواقفی کی وجہ سے ایک باورچی سے شادی کرلی ا س کی وضع قطع اچھی تھی اور اس نے مشہوریہ کر دیا تھا کہ وہ روس کا شہزادہ ہے جب شادی ہو گئی توبعد میں پتہ چلا کہ وہ تو کہیں باورچی کا کام کیا کرتا تھا۔یہ واقعات ہیں جو یورپ میں کثرت سے ہوتے رہتے ہیں ان واقعات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مردوں کے قو ام ہونے کے متعلق جو کچھ فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔شر یعت کا اس سے یہ منشا نہیں کہ عورتوں پر ظلم ہو یا ان کی کوئی حق تلفی ہو بلکہ شر یعت کا اس امتیا ز سے یہ منشا ہے کہ جن با تو ں میں عو رتوں کو نقصا ن پہنچ سکتا ہےان میں عو رتوں کو نقصا ن سے محفوظ رکھا جا ئے۔اسی وجہ سے جن با تو ں میں عو رتو ں کو کو ئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ان میں ان کا حق خدا تعالیٰ نے خو د ہی انہیں دے دیا ہے۔پس قر آ ن کر یم نے جوکچھ کہا ہے وہ اپنے اندر بہت بڑی حکمتیں اور مصا لح رکھتا ہے۔اگر دنیا ان کے خلا ف عمل کر رہی ہے تو وہ کئی قسم کے نقصا نا ت بھی بر دا شت کر رہی ہے جو اس با ت کا ثبو ت ہیں کہ اسلا م کے خلا ف عمل پیرا ہو نا کبھی نیک نتا ئج کا حامل نہیں ہو سکتا۔آ خر میںوَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ فر ما کر اس طرف تو جہ دلا ئی کہ یاد رکھو! عو رتوں پر جو فو قیت ہم نے تمہیں دی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس سے نا جا ئز فا ئد ہ اٹھا ؤ۔اور ان کے حقو ق کو پا ما ل کر ناشر وع کر دو۔دیکھو !تم پر بھی ایک حا کم ہے جوعز یز ہے۔یعنی اصل حکو مت خدا تعالیٰ کی ہے اس لئے چا ہیے کہ مر د اس حکو مت سے نا جا ئز فائدہ نہ اٹھائے۔اور حکیم کہہ کر اس طرف تو جہ دلا ئی کہ ضبط و نظم کے معا ملا ت میں جو اختیا ر ہم نے مر دوں کو دیا ہے۔یہ سرا سر حکمت پر مبنی ہے ورنہ گھر وں کا امن بر با د ہو جاتا۔چو نکہ میاں بیوی نے مل کر رہنا ہو تا ہے اور نظا م اس وقت تک قا ئم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ایک کو فو قیت نہ دی جا ئے اس لئے یہ فو قیت مر د کو دی گئی ہے اور اس کی ایک اور و جہ اللہ تعالیٰ