تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 348
كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ کےلئے اس کا چھپانا جائز نہیں۔اور اگر ان کے خاوند باہمی اصلاح کا ارادہ کر لیں تو وہ اس (مدت) کے اندر (اندر ) بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ ان کو( اپنی زوجیت میں) واپس لےلینے کے زیادہ حق دار ہیں۔اور جس طرح ان( یعنی عورتوں پر )کچھ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ ذمہ داریاںہیں (ویسے ہی )مطابق دستور انہیں بھی (کچھ حقوق) حاصل ہیں۔ہاں مردوں کو ان پر ایک طرح کی وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌؒ۰۰۲۲۹ فوقیت حاصل ہے اور اللہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ طلاق کے مسائل بیان فرماتا ہے اور اس بارہ میں سب سے پہلی ہدایت یہ دیتا ہے کہ جن عورتوں کو اُن کے خاوند طلاق دے دیں۔انہیں اپنے آپ کو تین قروء تک روکے رکھنا چاہیے۔قُرُوْء سے کیا مُراد ہے؟اس بارہ میں اُمت محمدیہ میں دو گروہ پائے جاتے ہیں۔خلفاء اربعہ یعنی حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ اِس سے حیض مُراد ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور امام ابو حنیفہؒ کی بھی یہی رائے ہے(ابن کثیر ، مجمع البیان از طبری زیر آیت ھٰذا)۔لیکن حضرت عائشہؓ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت امام مالکؒ اور حضرت امام شافعی ؒ کہتے ہیں کہ اس سے طُہر مراد ہے۔حضرت محی الدین ابنِ عربی ؒ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ خواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کودیکھا اور آپ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ اہل عرب توقُرء سے حیض بھی مُراد لیتے ہیں اور طُہر بھی۔اللہ تعالیٰ کا اس سے کیا منشاء ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دونوں کو صحیح قرار دیا ہا ں ترجیح آپ نے طُہر کو دی۔(فتو حا تِ مکیہ جلد ۴۔با ب ۵۶۰صفحہ ۶۰۹،۶۱۰) عدّت کی حکمت با لکل و اضح ہے۔اس عرصہ میں خا وند کو سو چنے اور غو ر کر نے کا کا فی وقت مل جا تاہے۔اور اگر اس کے دل میںاپنی بیوی کی کچھ بھی محبت ہو تو وہ رجوع کر سکتا ہے۔