تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 336
ہوا ہے۔اور وہ یہی ہے جو فَا لْاٰنَ بَا شِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْ ا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ (البقرة:۱۸۸)میں بیا ن کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اولا د حاصل کر نے کا جو طبعی طر یق مقرر کر رکھا ہے اس کے مطا بق عمل کر و اور اللہ تعا لیٰ نے جو اولاد تمہا رے لئے مقدر کر ر کھی ہے اس کی جستجو کر و۔گو یا عو رتو ں سے تم ایسا ہی تعلق رکھو جس کے نتیجہ میں اولا د پیدا ہو۔کوئی غیر فطر ی طر یق اختیا ر نہ کرو۔يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو اس امرکی طر ف تو جہ دلا ئی ہے کہ اگر تم سے کبھی کوئی گنا ہ سر زد ہو جا ئے تو اس کے فو راً بعد تمہا ر ے دل میں اس گنا ہ پر ندامت پیدا ہو نی چا ہیے اور تمہیں اس سے تو بہ کر نی چا ہیے کیونکہ اللہ تعا لیٰ توبہ کر نیوالو ں سے محبت کر تا ہے۔دو سرے توّ اب اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو بار بار خدا تعالیٰ کی درگاہ میں جاتا اور اس سے دُعا ئیںکر تا رہے۔اِس لحا ظ سے يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ کے یہ معنے ہیں کہ وہ لو گ جو یقین رکھتے ہیں کہ ہما ر ے تما م کا م دعاؤںسے و ا بستہ ہیں اور قدم قدم پر وہ خدا تعا لیٰ کی طر ف رجو ع کر تے اور اس سے مدد طلب کر تے ہیں وہ با لآخر اللہ تعا لٰے کی محبت حا صل کر نے میں کا میا ب ہو جا تے ہیں۔گو یا گناہو ں پر ندا مت اور توبہ کا اظہا ر اور ہر مشکل گھڑی میں اللہ تعا لیٰ کی طر ف ر جو ع یہ دو ذرائع ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی محبت کا دروازہ انسان کے لئے کھل جا تا ہے۔اسی طر حيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ میں بھی دوامور کی طر ف تو جہ دلا ئی گئی ہے ایک تو اس امر کی طرف کہ اللہ تعا لیٰ صفا ئی رکھنے وا لو ں سے محبت کر تا ہے۔درحقیقت نظا فت پسندی انسا نی تقاضو ں میں سے ایک اہم تقاضا ہے جسم کو صا ف رکھنا۔منہ کو صا ف رکھنا۔کپڑوں کو صا ف ر کھنا۔اور ایسی اشیاء کااستعما ل کر نا جو نا ک کی قو ت کو صد مہ پہنچا نے والی نہ ہو ں بلکہ اس کے لئے مو جب را حت ہوں۔اس تقا ضا کو لوگو ں نے غلطی سے نیکی اور تقویٰ کی اعلیٰ را ہو ں پر چلنے وا لوں کے طر یق کے خلاف سمجھ لیا تھا اور ایک ایسی راہ اختیا ر کر لی تھی جس کے نتیجہ میں یا تو خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ طیّب اشیاء بیکار ہو کر رہ جائیں یا خدا تعالیٰ کے بندے ان طیّب اشیاء کو استعمال کر کے گنہگا ر قرا ر پا ئیں۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم نے اس بنا وٹی نیکی اور جھو ٹے تقو یٰ کی چا در کو بھی چا ک کر دیا اور حکم دیا کہ اللہ تعا لیٰ خو د پا ک ہے اور پا ک رہنے والو ں کو پسند کر تا ہے۔چنا نچہ آ پ اکثر غسل فر ما تے۔پھرکئی امو ر کے سا تھ غسل آ پ نے وا جب قرار دے دیا(ابو داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل للجمعة) چو نکہ انسا ن اپنے گھر کے اشغا ل کی وجہ سے صفا ئی میں سُستی کر بیٹھتا ہے اس لئے آ پؐ نے خدا تعا لیٰ کے حکم سے میاں بیوی کے تعلقات کے سا تھ غسل کو وا جب قر اردے دیا(ترمذی کتاب الطہارۃ باب ما جاء اذا التقی الختانان وجب الغسل)۔اِسی طر ح پا نچو ں نما زوں سے پہلے آ پ ان اعضا ء کو دھو تے جو عا م طو ر پر گر دو غبار کامحل بنتے رہتے ہیںاور دوسروں کو بھی اس امر پر