تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 335

نقطہ نگا ہ سےکہا گیا ہے۔دوسر ے طبّی لحا ظ سے بھی اسے نقصا ن رساںقر ا ر دیا گیا ہے۔جیسا کہ تما م اطبّا ء اسے بیا ن کر تے چلے آ ئے ہیں۔(مفر دا ت) اِعْتِزَالٌ کے معنے ہیں ا یک طر ف ہو جا نا۔تَطَھَّرْنَ تَطَھَّرَتِ الْمَرْاَۃُ کے معنے ہو تے ہیں اِغْتَسَلَتْ عو ر ت نے غسل کیا۔(اقر ب) تفسیر۔جب مر د و عور ت کا نکا ح کے ذر یعہ تعلق قا ئم ہو جا ئے تو اس کے بعد جو ں جو ں ازدوا جی ذمہ واریا ں سا منے آ تی ہیں انسا نی قلب میں مختلف قسم کے سوالات پیدا ہو تے رہتے ہیں جن کا حل کر نا ضر و ر ی ہو تا ہے۔اس جگہ اسی قسم کے ایک سوا ل کا ذکر کر تے ہوئے اس کا جوا ب دیا گیا ہے۔فر ما تا ہے لو گ ایام حیض کے با رہ میں تجھ سے سوا ل کر تے ہیں کہ آیاان ایّا م میں مخصوص تعلقا ت قا ئم کئے جا سکتے ہیںیا نہیں؟ فر ما تا ہے تو انہیں کہہ دے کہ حیض تو ا یک نجا ست ہے۔پس تمہیں چا ہیے کہ ان ایا م میں جنسی تعلقا ت سے پر ہیز رکھواور اس وقت تک اس پر قا ئم رہو جب تک کہ وہ نہا دھو کر پا ک صا ف نہ ہو جا ئیں۔اس جگہ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ کے یہ معنے نہیں کہ اِن اَیام میں عور تو ں کو چھو نا یا ہا تھ لگانا یا اُ ن کے پا س بیٹھنا بھی منع ہے۔بلکہ اس سے صر ف مخصو ص تعلقا ت کی نفی کی گئی ہے ورنہ حضر ت عا ئشہ رضی اللہ عنہافر ما تی ہیں کہ ر سو ل کر یم صلی اللہ علیہ و سلم ایا م حیض میں بھی اُ ن سے پیا ر کر لیتے اور انہیں اپنے پا س بٹھا لیا کر تے تھے(ترمذی کتاب الطہارۃ باب ما جاء فی مباشرة الحائض)۔فقہاء میں اس امر کے متعلق اختلا ف پا یا جا تا ہے کہ خو ن حیض بند ہو نے کے بعد مخصو ص تعلقا ت قا ئم کئے جا سکتے ہیں یا نہا نے کے بعد اور اس با رہ میں کچھ تو ایک طر ف چلے گئے ہیں اور کچھ دوسر ی طرف۔لیکن اصل با ت یہ ہے کہ حیض بند ہو جانے کے بعد عو رت کے پا س جا ناتو جا ئزہو جاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کو پسند یہی ہے کہ نہا نے دھو نے کے بعد یہ تعلق قا ئم کیا جائے۔تطہر کے لئے ر سو ل کر یم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرما یا ہے کہ جب عورت ایّا م حیض سے فا ر غ ہوتو مشک پا نی میں حل کر کے اور اس سے روئی بھگو کر اندرونی ا عضاء کی صفا ئی کر لیا کر ے۔(بخاری کتاب الحیض باب غسل المحیض) اور طبّی طو ر پر ثا بت ہے کہ ایسا کیا جائے تو عورت کی صحت اور آئندہ اولاد پر اس کا نہا یت خو شگوا ر اثر پڑتا ہے۔فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ میںحَیْثُ ظر فِ مکا ن ہے اور مر اد یہ ہے کہ تم عورتوں کے پا س اس جگہ سے آؤ جس جگہ کے آنے کا اس نے حکم دیا ہوا ہےاور اس سے بھی معلوم ہو گیا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم دیا