تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 337
عمل پیرا ہو نے کا حکم دیتے (ترمذی کتاب الطہارۃ باب الوضو ء لکل صلوٰة)۔کپڑوں کی صفا ئی کو آ پ پسند فرماتے۔جمعہ کے دن دُھلے ہوئے کپڑے پہن کر آ نے کا حکم دیتے اور خو شبو کو خو د بھی پسندفرماتے اور اجتماع کے مو ا قع کے لئے بھی خو شبو لگا نا پسند فر ما تے۔جہا ںاجتما ع ہو نا ہو چو نکہ وہا ں مختلف قسم کے لو گ جمع ہو تے ہیں اور متعدی بیما ریو ں کے پھیلنے کا خطرہ ہو تا ہے اس لئے آ پ وہا ں خو شبودار مصا لحہ جا ت جلا نے اور ان جگہو ں کو صا ف رکھنے کا حکم دیتے(مشکٰوۃ کتاب الصلوٰۃ باب التنظیف و التکبیر )۔بد بو دار اشیاء سے پر ہیز فر ما تےاور دوسر وں کو بھی اس سے رو کتے کہ بد بودار اشیاء کھا کر ا جتما ع کی جگہوں میں آئیں(ترمذی ابواب الاطعمة باب ما جاء فی کراہیة اکل الثوم و البصل)۔غر ض جسم کی صفا ئی۔لبا س کی پا کیزگی۔اور نا ک کے احسا س کا آ پ پو را خیال رکھتے۔اور دوسر و ں کو بھی ایسا ہی کر نے کا حکم دیتے۔ہا ں یہ ضر ور فر ما تے کہ جسم کی صفا ئی میں اس قدر منہمک نہ ہو جاؤ کہ رُوح کی صفا ئی کا خیا ل ہی نہ رہے۔اور لبا س کی پا کیزگی کا اس قدر خیا ل نہ رکھو کہ ملک و ملّت کی خدمت سے محروم ہو جاؤ اور غر یب لوگوں کی صحبت سے احتر ا ز کر نے لگو۔اور کھا نے میں اس قدر احتیا ط نہ کر و کہ ضر و ری غذا ئیں تر ک ہو جا ئیں۔ہا ں یہ خیال رکھوکہ اہلِ مجلس کو تکلیف نہ ہو تا کہ اچھے شہر ی بنو۔اور لو گ تمہا ری صحبت کو نا گو ا ر نہ سمجھیں بلکہ اسے پسند کریں اور اس کی جستجو کر یں۔غر ض لوگو ں نے تو کہا کہ صفا ئی اور خو شبو سے بچو کہ وہ جسم کو پا ک مگر دل کو نا پا ک کر تی ہےلیکن اسلا م نے کہا يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ۔خدا تعا لیٰ ظا ہر ی اور با طنی صفائی رکھنے وا لو ں کو پسند کر تا ہے گو یا اسلا م نے اپنے اس اعلا ن سے عیسا ئیو ں اور ہندوؤں کے ان تما م فر قوں کا رد کر دیا جن میں بزرگا نِ دین کے لئے پا ک و صا ف رہنا اور خو شبو کا استعما ل با لکل حرام سمجھا جا تا تھا اور جن میں گندے اور بد بودار لبا س کا استعمال اور ناخن نہ کٹوانااور جسم کی میلنہ اتارنا بزرگی کی ایک بہت بڑی علا مت سمجھی جا تی تھی۔اسلام نے اس نظر یہ کو با طل قر ار دیتے ہو ئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگو ںسے محبت رکھتا ہے جواللہ تعالیٰ کی طر ف بار با ر رجو ع کر نے والے بھی ہو ں اور اُ ن کا جسم اور لبا س بھی صا ف ستھر ا ہو اور وہ ہر قسم کی غلا ظت سے دور ہنے وا لے ہوں۔ان معنو ں کے لحا ظ سے يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ کہہ کر اس طرف تو جہ دلا ئی کہ خدا تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ جب عورتیں غسل کر لیں تب اُن کے سا تھ صحبت کی جا ئے اس سے پہلے ان کے پا س جا نا يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ کے خلا ف ہے۔مُتَطَھِّرٌ کے دو سرے معنے تکلّف کےسا تھ پا کیزگی اختیا ر کرنےوا لے کے ہیں۔اس لحا ظ سے يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ میں اس طر ف اشا رہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ان لو گو ں سے محبت کر تا ہے جو اس کے ہم جنس بننے کی کو شش کر تے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی جو صفات قر آن کر یم میں بیا ن ہو ئی ہیں تم اُ ن کی نقل کر نے کی کو شش کر و۔تم حَي