تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 324

اور دوسری طرف اپنے مال سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ روپیہ کمانے میں انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔پھر جُوا عقل اور فکر کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔اور جُوئے باز عادتاً ایسی چیزوں کے تباہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جنہیں کوئی دوسرا عقلمند تباہ کرنے کےلئے تیار نہیں ہوتا۔يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا يُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ۔جب شراب سے جو سپاہیوں میں تہور پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھا اور جوئے سے جو لوٹ مارکا طریق تھا اور جس سے وہ لوگ جنگی اخراجات پورا کیا کرتے تھے۔روک دیا گیا توبجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں کوئی انقباض پیدا ہوتا انہوں نے قربانیوں کی راہ میں ایک اور قدم آگے بڑھایا۔اور جائز ذرائع سے کمائے ہوئے اموال کے متعلق بھی یہ پوچھنا شروع کر دیا کہ انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں کس نسبت سے خرچ کرنا چاہیے چونکہ پہلے بھی ایک ایسا ہی سوال گزر چکا ہے اس لئے یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں اقسام صدقہ کے متعلق سوال تھا اور یہاں کمیت کے متعلق سوال ہے یعنی جب جُوا بھی منع کر دیا گیا تو ان کے دلوں میں سوال پیدا ہوا کہ اب لازماً ہمیں زیادہ قربانی کی ضرورت ہو گی۔سو ہم کیا خرچ کریں۔کیا سب کچھ یا کسی اور نسبت سے ؟گویا جس حد تک ہمیں اپنے اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے چاہئیں اس پر روشنی ڈالی جائے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں صرف ایک لفظ عفو استعمال فرمایا ہے جس کے ایک معنے اس مال کے ہیں جو ضروری اخراجات سے بچ جائے اور جس کے دینے سے انسان کو کسی قسم کی تکلیف محسوس نہ ہو۔دوسرے معنے عَفْوٌ کے خِیَارُ الشَّیْ ئِ وَاَطْیَبُہٗ کے ہیں۔یعنی سب سے اچھی اور پاکیزہ شے اور تیسرے معنے عَفْوٌ کے بغیر مانگے دینے کے ہیں۔مفسرین نے اس آیت کے کئی معنے لکھے ہیں ایک تو یہ کہ اس جگہ جہاد میں اموال خرچ کرنے کا حکم ہے۔صدقات مراد نہیں گویا ان کے نزدیک زیر تفسیر آیت کے یہ معنے ہیں کہ جب جہاد درپیش ہو تو اپنی ضروریات سے زائد مال تمام کا تمام جہاد کے لئے دے دو۔دوسرے معنے اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ یہاں جہاد کا نہیں بلکہ صدقات کا ذکر ہے۔اور پھر عَفْوٌ کے لحاظ سے اس کے کئی معنے کرتے ہیں (۱) بعض کہتے ہیں کہ عَفْوٌ کے معنے ضرورت سے زائد مال کے ہیں۔چنانچہ ابتدائے اسلام میں سال بھر کے نفقہ سے جو کچھ بچ رہتا اس کے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا مسلمانوں کو حکم تھا مگر آیت زکوٰۃ کے نازل ہونے پر یہ حکم موقوف ہو گیا۔گویا ان کے نزدیک یہ آیت اب منسوخ ہو چکی ہے (۲) دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ زکوٰۃ کے متعلق حکم ہے اور مجملاً بیان ہوا ہے اس کی تفصیل دوسری جگہوں سے معلوم ہوتی ہے (۳) ایک اور جماعت عفو کے معنے اس مال کے کرتی ہے جس کا خرچ کرنا بوجھ معلوم نہ ہو۔(۴) بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنے درمیانی خرچ کے ہیں یعنی نہ بالکل کم خرچ کرو اور نہ حد سے زیادہ (۵) پھر بعض نے کہا ہے کہ عَفْوٌ کے