تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 323

کہ شراب حرام کی گئی ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اُٹھ کر دریافت کرو کہ یہ بات درست بھی ہے یا نہیں؟ مگر بعض دوسروں نے کہاکہ نہیں پہلے شراب بہا دو پھر دیکھا جائے گا۔اور مجھے حکم دیا کہ میں شراب کابرتن توڑ کر شراب بہادوں چنانچہ میں نے ایک سونٹا مار کر وہ گھڑا جس میں شراب تھی توڑ دیا اور اس کے بعد وہ لوگ کبھی شراب کے نزدیک نہیں گئے۔(صحیح مسلم کتاب الاشربۃ باب تحریم الخمر،مسند احمد بن حنبلروایت حضرت انس ؓ، تفسیر طبری زیر آیت ھٰذا) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کااثر لوگوں کے دلوں پر کیا تھا۔مجلس شراب میں جبکہ لوگ نشہ میں ہیں۔ایک شخص کے خبر دینے پر بلا تحقیق شراب کا بہا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔اس کی اہمیت کو وہ اقوام زیادہ سمجھ سکتی ہیں جو شراب کی عادی ہیں۔کیونکہ جب دور سے دیکھنے والے ان کی اس حالت کو عجیب حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو خود ان کے دل ضرور اس حالت کی خصوصیت کو اچھی طرح محسوس کرتے ہوںگے۔اس واقعہ کو دوسرے مذاہب اور دوسرے تمدنوں اور قوانین کے اثرات کے ساتھ ملا کر دیکھو کہ کیا دونوں میں زمین وآسمان کا فرق نہیں؟ آج جبکہ سائینس اور علومِ طبعیہ شراب کی مضرت کو ثابت کر رہے ہیں اور شراب کے ترک کرنے میں ملکی بہبودی اور مالی فراخی کی بھی امید ہے پھر بھی لوگ شراب چھوڑنے کے لئے تیار نہیں لیکن عرب کا مخمور مسلم ایک راستہ پر چلنے والے کی اکیلی آواز سن کر کہ شراب حرام کی گئی ہے شراب کے مٹکوں کو توڑ کر مدینہ کی گلیوں میں شراب ہی کا دریا بہا دیتا ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍوَ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔دوسر ی چیز جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے وہ جُوا ہے۔جوا بھی اہل عرب کی گھٹی میں رچا ہوا تھا۔چنانچہ انہوں نے جب کوئی بڑی دعوت کرنی ہوتی تو اس کے اخراجات کے لئے یہ انتظا م کرتے کہ تمام امراء مل کر جُوا کھیلتے اور جو ہار جاتا اس پر اس خرچ کی ذمہ واری ڈال دی جاتی۔اسی طرح جنگوں کے موقعہ پر وہ قرعہ اندازی سے کام لیتے اور جس امیر آدمی کا نام نکلتا اس کا فرض قرار دیا جاتا کہ وہ لڑنے والوں کے کھانے پینے کا انتظام کرے اور ان کو شراب مہیا کر کے دے۔گویا یہ جنگی اخراجات پورا کرنے کا ایک ذریعہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی مسلمانوں کو منع فرما دیا کیونکہ جس طرح شراب جسم اور اخلاق اور روحانیت کو تباہ کرنے والی چیز ہے اسی طرح جُوا بھی اخلاق اور تمدن کو تباہ کرنے والی چیز ہے۔جُوئے کا عادی انسان اگر جیتتا ہے تو اور ہزاروں گھروں کی بربادی کا موجب ہو کر پھر جُوئے باز میں زمین اور روپیہ لٹانے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔شاید ہی کوئی جوئے باز ایسا ہو گا جو روپیہ کو سنبھال کر رکھتا ہو۔بالعموم جُوئے باز بے پرواہی سے اپنے مال کو لٹاتے ہیں اور ایک طرف تو اور لوگوں کو برباد کرتے ہیں